الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مغربی بنگال کے رضی نگر و نندی گرام اسمبلی حلقوں میں 6 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخاب کے پیش نظر ممتا بنرجی اور باغی گروپ کو نیا نام دے دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ ممتا بنرجی کی پارٹی کا نام ’ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ رہے گا، جبکہ باغی رتبرت کے گروپ کو ’ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس‘ کے نام سے پہچانا جائے گا۔ دونوں ہی پارٹیوں کو الگ الگ انتخابی نشان بھی مل گیا ہے۔ انتخابی نشان کی شکل میں ممتا کی پارٹی کو جہاں ’فٹبال پلیئر‘ ملا ہے، وہیں رتبرت کی پارٹی کو ’لفافہ‘ حاصل ہوا ہے۔#BREAKING | ममता बनर्जी की पार्टी का नाम ममता ऑल इंडिया तृणमूल कांग्रेस@_poojaLive | @ReporterAnkitG https://t.co/SMm0dUypVm#MamataBanerjee #MamataAllIndiaTrinmoolCongress #Football #ElectionCommission #ABPNews pic.twitter.com/M3az5rAoDU— ABP News (@ABPNews) September 18, 2026قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد ترنمول کانگریس میں پھوٹ پڑ گئی تھی۔ اس کے بعد دونوں گروپوں نے پارٹی پر اپنا حق ظاہر کیا تھا۔ یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں پہنچ گیا تھا، جس کے بعد ادارہ نے ترنمول کانگریس کے نام اور انتخابی نشان ’2 پھول اور گھاس‘ کو فریز کر دیا تھا۔ اب الیکشن کمیشن نے دونوں ہی گروپوں کو نیا نام اور انتخابی نشان فراہم کر دیا ہے، جس سے انھیں ضمنی انتخاب میں امیدوار کھڑے کرنے میں آسانی ہوگی۔ حالانکہ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی ظاہر کر دیا ہے کہ یہ حکم عبوری ہے۔’ووٹ چوری، حکومت چوری، اب پارٹی چوری‘، ترنمول کا نام اور انتخابی نشان منجمد کیے جانے پر راہل گاندھی کا تلخ تبصرہالیکشن کمیشن نے گزشتہ روز دونوں ہی ترنمول گروپوں سے نئے نام اور انتخابی نشان کے لیے مشورہ طلب کیا تھا۔ اس کے بعد ممتا اور رتبرت دونوں نے ہی پارٹی کے لیے 3-3 نام اور 3-3 انتخابی نشان کا متبادل جمع کیا تھا۔ دونوں گروپوں کے مشوروں کو سامنے رکھتے ہوئے ہی الیکشن کمیشن نے انھیں پارٹی کا نام اور انتخابی نشان الاٹ کیا ہے۔ نیا نام ملنے کے بعد رتبرت بنرجی کا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم مجموعی طور پر فیصلہ لیتے ہیں اور ہم نے 3 نام دیے تھے۔ ہمیں ’ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس‘ نام ملا ہے اور انتخابی نشان ’لفافہ‘ دیا گیا ہے۔‘‘