ٹی ایم سی تنازعہ پر تیجسوی یادو کا طنز، ’اب پارٹیوں کے نام، نشان اور بینک کھاتے بھی لوٹے جا رہے ہیں‘

Wait 5 sec.

پٹنہ: بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے نام اور انتخابی نشان سے متعلق تنازعہ پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کو توڑنے کے بعد اب اپوزیشن جماعتوں کے نام، انتخابی نشان اور بینک کھاتے بھی لوٹے جا رہے ہیں۔تیجسوی یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آئین، جمہوری روایات اور جمہوری اقدار کو ’تار تار‘ کرتے ہوئے پہلے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کو توڑا گیا، پھر وزرائے اعلیٰ سمیت حکومتیں ’چوری‘ کی گئیں اور اب اپوزیشن جماعتوں کے نام، انتخابی نشان اور بینک کھاتوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے لکھا، ’’ان کی جمہوری چوری اور ڈکیتی کی بھوک اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب اپوزیشن پارٹیوں کے نام، انتخابی نشان اور بینک کھاتے بھی لوٹے جا رہے ہیں۔‘ تیجسوی یادو نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کی رہنمائی اور الیکشن کمیشن کی ہدایت پر شیوسینا، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) کے بعد اب ٹی ایم سی کے ساتھ بھی وہی کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو ادارے جمہوریت کے رکشک (محافظ) ہونے چاہئیں، وہی اب بھکشک (تباہ کرنے والے) کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ تیجسوی کا یہ بیان ٹی ایم سی کے نام اور اس کے روایتی انتخابی نشان ’پھول اور گھاس‘ کو آئندہ ضمنی انتخابات کے لیے فریز کیے جانے کے پس منظر میں آیا ہے۔’ووٹ چوری، حکومت چوری، اب پارٹی چوری‘، ترنمول کا نام اور انتخابی نشان منجمد کیے جانے پر راہل گاندھی کا تلخ تبصرہدریں اثنا، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی ٹی ایم سی کے معاملے پر الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایکس پر کہا کہ پہلے شیوسینا، پھر این سی پی اور اب ترنمول کانگریس، ہر بار ایک ہی طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن مل کر ایک پارٹی کو توڑتے ہیں اور پھر اس کا انتخابی نشان چھین لیا جاتا ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ جب پوری پارٹی ’چوری‘ کی جا سکتی ہے تو کروڑوں ہندوستانیوں کے ووٹ ’چوری‘ ہونا بھی حیرت کی بات نہیں۔ انہوں نے ’ووٹ چوری، حکومت چوری، اب پارٹی چوری‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے جمہوری زوال کی علامت قرار دیا۔بہار کی تباہی پر مودی حکومت خاموش، گجرات میں معمولی بارش پر ہزاروں کروڑ کا پیکیج: تیجسوی یادوانہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری عوام کے مینڈیٹ کا تحفظ کرنا ہے، لیکن ان کے مطابق کمیشن ان قوتوں کی مدد کر رہا ہے جو عوام کے فیصلے کو ہی پلٹ دیتی ہیں۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ یہ معاملہ صرف مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی یا ٹی ایم سی تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہر سیاسی جماعت اور ہر اس ووٹر کا معاملہ ہے جو آزاد اور منصفانہ انتخابات چاہتا ہے۔ٹی ایم سی کے نام اور انتخابی نشان سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئندہ ضمنی انتخابات کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس کے بعد پارٹی کے دونوں حریف دھڑوں کو الگ الگ نام اور انتخابی نشان دیے گئے ہیں۔