دشا سالیان کیس میں بڑا دعویٰ، وکیل نیلیش اوجھا نے کہا- ’سی سی ٹی وی فوٹیج سے ہوئی چھیڑ چھاڑ‘

Wait 5 sec.

ممبئی: دشا سالیان کیس میں ان کے والد ستیش سالیان کے وکیل نیلیش اوجھا نے سی سی ٹی وی فوٹیج سے چھیڑ چھاڑ کیے جانے کا الزام لگاتے ہوئے کئی سنگین دعوے کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں ادھو ٹھاکرے ملزم ہیں، جبکہ مہاراشٹر کے موجودہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اہم گواہ ہیں۔ اوجھا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر سی بی آئی آدتیہ ٹھاکرے اور دیگر افراد کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔اوجھا نے الزام لگایا کہ ادھو ٹھاکرے نے اپنے بیٹے کے مبینہ غلط کاموں کو چھپانے کے لیے پولیس افسر سچن وازے کو دوبارہ پولیس سروس میں بحال کرایا تھا۔ ان کے مطابق وازے کَسٹَوڈیل ڈیتھ اور اس سے متعلق مبینہ کور اَپ کے معاملے میں ہائی کورٹ کے حکم پر معطل تھے اور ضمانت پر باہر تھے۔ اوجھا نے دعویٰ کیا کہ دشا سالیان کی موت سے دو دن قبل وازے کو پولیس سروس میں بحال کیا گیا تھا۔وکیل نے الزام لگایا کہ وازے کی بحالی عدالت کے حکم کے خلاف تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق پولیس افسر پرم بیر سنگھ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ادھو ٹھاکرے اور آدتیہ ٹھاکرے کی جانب سے وازے کو بحال کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ اوجھا نے اسے اس وقت کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی جانب سے عہدے کے مبینہ غلط استعمال سے بھی جوڑا۔اوجھا نے کہا کہ اس معاملے میں موجودہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس ایک اہم گواہ ہیں۔ ان کے مطابق، انٹلیا معاملے میں سچن وازے کی گرفتاری کے بعد ادھو ٹھاکرے نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن نہیں ہے۔ اس کے بعد دیویندر فڑنویس نے کہا تھا کہ جب وہ وزیر اعلیٰ تھے تو ادھو ٹھاکرے نے ان سے وازے کو بحال کرنے کے لیے کہا تھا، لیکن انہوں نے عدالتی حکم کا حوالہ دیتے ہوئے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔اوجھا نے پرم بیر سنگھ، شیلیندر ناگرکر، ارجن راجانے، سچن وازے اور آدتیہ ٹھاکرے سے متعلق بھی کئی دعوے کیے۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی دستیاب ریکارڈ اور شواہد کی جانچ کے بعد ان افراد کے خلاف گرفتاری سمیت دیگر کارروائی کی تیاری کر سکتی ہے۔ دشا سالیان کیس سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج کے بارے میں اوجھا نے الزام لگایا کہ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا ڈی وی آر بیک اپ لینے کے بعد اسے سیل کیا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کچھ دن بعد پرم بیر سنگھ نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ واقعے کے وقت آدتیہ ٹھاکرے سمیت دیگر افراد وہاں موجود نہیں تھے۔ اوجھا نے سوال اٹھایا کہ اگر فوٹیج پہلے ہی سیل کردی گئی تھی تو اس کی بنیاد پر ایسی جانچ کیسے کی گئی۔اوجھا کے مطابق، 2025 میں ہائی کورٹ میں سماعت شروع ہونے پر انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی فرانزک جانچ رپورٹ طلب کی۔ عدالت کی جانب سے رپورٹ طلب کیے جانے پر پولیس نے بتایا کہ فوٹیج کی فرانزک جانچ نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد فوٹیج کو فرانزک جانچ کے لیے بھیجا گیا۔ اوجھا نے دعویٰ کیا کہ رپورٹ میں مبینہ طور پر سامنے آیا کہ 4 جون سے 9 جون کے درمیان کی ویڈیو ریکارڈنگ ڈیلیٹ کی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے بیک اپ والی ہارڈ ڈسک غائب پائی گئی۔اوجھا نے کہا کہ اگر پولیس کی تحویل یا کسی پولیس افسر کے دفتر سے کوئی اہم دستاویز یا ثبوت کسی ملزم کو بچانے کے لیے غائب کیا گیا ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف سنگین قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شواہد سے چھیڑ چھاڑ سامنے آنے کی صورت میں متعلقہ افراد کو حراست میں لے کر مزید تحقیقات کی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، سی بی آئی دستیاب قانونی دفعات کے تحت متعلقہ افراد کے خلاف گرفتاری سمیت مزید کارروائی کر سکتی ہے۔