بنگلادیش میں ایندھن کا بحران، بجلی و گیس غائب

Wait 5 sec.

بنگلادیش میں گیس بحران شدید ہونے سے معمولات زندگی متاثر ہونے لگے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش میں گیس کی شدید قلت سے عام صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے خصوصاً دارالحکومت ڈھاکا میں گیس پریش میں کمی اور بار بار تعطل کی شکایات نے گھریلو صارفین کی زندگی اجیرن کر دی۔اس بحران نے مقامی رہائشیوں کو ہر وقت مختلف حساب کتاب کرنے پر مجبور کر دیا ہے؛ مثلاً یہ کہ گیس پریشر کب اتنا ہوگا کہ کھانا پکایا جا سکے، حبس زدہ گرمی میں پنکھا کتنی دیر تک چلایا جا سکتا ہے، اور پیٹرول پمپ پر گاڑیوں کی قطار کتنی لمبی ہو سکتی ہے۔ملک میں گیس کے ساتھ ساتھ بجلی بحران بھی بڑھتا جارہا ہے جس سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کفایت شعاری مہم کے تحت دکانیں اور کاروباری مراکز جلد بند کرنے کے احکاماتا دیے ہیں۔ایندھن کی عدم دستیابی سے بڑی صنعتیں متاثر ہورہی ہیں جن میں پیداواری استعداد کم کر جارہی ہے۔غذائی قلت کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے ‘انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن’ کے مطابق توقع ہے کہ رواں سال کے آخری مہینوں میں مزید تقریباً 30 لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوں گے؛ یہ تعداد موسمِ گرما میں ریکارڈ کیے گئے 1 کروڑ 53 لاکھ (15.3 ملین) کے اعداد و شمار کے مقابلے میں 18 فیصد زیادہ ہے۔