یو پی آئی کے ذریعہ پیمنٹ کیے جانے پر کچھ فیصد فیس لینے کی خبر نے کانگریس کو ناراض کر دیا ہے۔ اس اہم اپوزیشن پارٹی نے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ ہر طرح سے عوام کو لوٹنا اور اپنے ’متروں‘ کی جیب بھرنا چاہتی ہے۔ یہ حملہ کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیا ہے۔’جلد ہی آپ سے 2000 روپے سے زیادہ کے یو پی آئی پیمنٹ پر وصولی کی جا سکتی ہے‘کانگریس نے اس پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی عوام سے وصولی کا نیا پلان لائے ہیں۔ اب 2000 روپے سے اوپر کے یو پی آئی پیمنٹ پر حکومت وصولی کرے گی۔‘‘ اس میں مزید لکھا گیا ہے ’’پلان ہے کہ 2000 روپے سے اوپر کے ہر یو پی آئی پیمنٹ پر 0.5 فیصد چارج وصول کیا جائے۔ یعنی اگر آپ نے 5000 روپے کی خریداری کی تو 25 روپے کا چارج لگے گا۔ اسی طرح اگر 10000 روپے کی خریداری کی تو 50 روپے وصول کیا جائے گا۔‘‘کانگریس کا کہنا ہے کہ پہلے یو پی آئی پیمنٹ پوری طرح مفت تھا، لیکن نریندر مودی سے یہ دیکھا نہیں گیا اور یہاں بھی وصولی کا کھیل شروع کر دیا۔ پارٹی نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’مودی کا فنڈا صاف ہے... جتنا ہو سکے عوام کو لوٹ لو اور اپنے متر کی تجوری بھرو۔‘‘ تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے کانگریس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’یہ عوام کی حکومت نہیں ہے، یہ چند صنعت کاروں کی حکومت ہے، اور نریندر مودی ان کے ایجنٹ ہیں۔‘‘नरेंद्र मोदी जनता से वसूली का नया प्लान लाए हैं। अब ₹2,000 से ऊपर के UPI पेमेंट पर सरकार वसूली करेगी।प्लान है कि ₹2,000 से ऊपर के हर UPI पेमेंट पर 0.5% चार्ज वसूला जाए, मतलब - • अगर आपने ₹5,000 की खरीदारी की तो ₹25 का चार्ज लगेगा• अगर ₹10,000 की खरीदारी की तो ₹50…— Congress (@INCIndia) September 15, 2026قابل ذکر ہے کہ بھلے ہی حکومت اور اصول بنانے والے ادارے دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ ’ایم ڈی آر چارج‘ مرچنٹ یعنی دکانداروں پر لگایا جائے گا، لیکن اس کا اصل بوجھ عام آدمی کی جیب پر ہی پڑنے کا اندیشہ ہے۔ دکاندار 2000 روپے سے زیادہ کے یو پی آئی پیمنٹ پر لگنے والا اضافی چارج خریداروں سے 3 طریقہ اختیار کر وصول کر سکتے ہیں، جو ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں...1. دکاندار اضافی چارج خریدار سے طلب کر سکتے ہیںموجودہ وقت میں اگر آپ کسی چھوٹی دکان پر کریڈٹ کارڈ سے پیمنٹ کرتے ہیں تو دکاندار مشین سوائپ کرنے کے نام پر تقریباً 2 فیصد تک کا اضافی چارج صارف سے ہی طلب کر لیتے ہیں۔ یو پی آئی سے پیمنٹ معاملہ میں بھی ٹھیک ایسا ہی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ 2000 روپے سے زیادہ کے بل پر دکاندار براہ راست صارف سے کہہ سکتا ہے کہ اسے بینک کا چارج بھی الگ سے دینا ہوگا۔2. یو پی آئی پیمنٹ سے انکار اور نقد کا مطالبہاپنے منافع میں سے بینک کو 1 یا 2 فیصد کا چارج دینے سے بچنے کے لیے کئی دکاندار 2000 روپے سے اوپر کا یو پی آئی پیمنٹ لینے سے ہی منع کر سکتے ہیں۔ وہ صارفین سے نقد کا مطالبہ کرنے لگیں گے۔ اس سے ڈیجیٹل انڈیا کے اس دور میں صارفین کو بڑی خریداری کے لیے دبوارہ کثیر نقدی رقم لے کر چلنے کی پریشانی اٹھانی پڑے گی۔3. خاموشی سے سامان کی قیمت میں اضافہ کرناجو دکاندار صارفین سے براہ راست چارج مانگنے یا بحث کرنے سے بچنا چاہیں گے، وہ خاموشی کے ساتھ اپنے سامان یا خدمات کی قیمت ہی بڑھا دیں گے۔ وہ ایم ڈی آر کے نقصان کا ازالہ پروڈکٹ کی قیمت بڑھا کر کریں گے۔ اس سے بازار میں ایک طرح کی ’چھپی ہوئی مہنگائی‘ آئے گی، جس کا بوجھ بالآخر صارف کو ہی اٹھانا پڑے گا۔