انقرہ: ترکی کے وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کہا ہے کہ ترکی اور دیگر ممالک نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے سامنے نئی شرائط اور تجاویز پیش کی ہیں۔خاقان فیدان نے ترک ٹیلی وژن چینل این ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ترکی اور دیگر ممالک تجاویز پیش کر رہے ہیں اور امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو کسی نتیجے تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔‘‘انھوں نے کہا ’’دونوں فریق اس سے قبل پاکستان میں ایک معاہدے تک پہنچے تھے، لیکن بعد میں اس پر عمل درآمد میں مسائل پیدا ہو گئے۔ اب دونوں فریق واضح طور پر اس عمل کو اس انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے ان کے اپنے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔‘‘فیدان نے کہا ’’گزشتہ چند ماہ سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل ہے۔ اس تعطل کے مظہر کے طور پر ہم نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف حملے دیکھ رہے ہیں بلکہ یمن کی جانب سے باب المندب کے محاذ کے کھلنے کی صورت حال بھی دیکھ رہے ہیں۔‘‘حوثیوں نے ریاض پر بیلسٹک میزائل داغ دیا، سعودی اتحادانھوں نے کہا ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ فریقین اسے سعودی عرب کی جانب بھی زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صورت حال بتدریج مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ہم امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو کسی نتیجے تک پہنچانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کر رہے ہیں، لیکن فریقین کے درمیان شدید عدم اعتماد موجود ہے۔‘‘انھوں نے کہا، ’’وہ پاکستان میں ایک مفاہمت تک پہنچ گئے تھے، لیکن اس کے بعد عمل درآمد کے مرحلے میں مسائل پیدا ہو گئے۔ اب دونوں فریقوں نے اس عمل کی اپنے اپنے مفادات کے مطابق مختلف انداز میں تشریح کرنا شروع کر دی ہے۔‘‘فیدان نے کہا کہ متعلقہ فریقوں کے سامنے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں اور امید ظاہر کی کہ انھیں قبول کر لیا جائے گا۔ انھوں نے خبردار کیا کہ جاری علاقائی بحران کے معاشی اثرات بعض ممالک کے لیے برداشت کرنا بتدریج مشکل ہوتا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ توانائی کی ترسیل کے راستوں کو ایک سنگین رکاوٹ کا سامنا ہے۔ ان کے بقول ترکیہ جیسے ممالک، جن کی صنعتیں اور معیشت درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں، کو بڑھتے ہوئے سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔