امریکہ میں تبدیل شدہ ٹیرف قانون سے ہندوستان پر دباؤ، ٹیکسٹائل سے لے کر آئی ٹی سیکٹر تک ہوگا اثر انداز!

Wait 5 sec.

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ہندوستانی سامان پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دینے والا نیا امریکی قانون تشویش کا موضوع ہے۔ برآمد کنندگان کے مطابق اس سے دونوں ملکوں کے درمیان اب تک مضبوط رہے تجارتی تعلقات کو لے کر غیر یقینی میں اضافہ ہوا ہے اور اگر ایسا محصول لگایا جاتا ہے تو اس سے امریکہ کو ہونے والی ہندوستان کی برآمدات بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔ تاہم ہندوستانی برآمدات پر اس کے ممکنہ اثرات کا اندازہ اسی وقت لگایا جا سکے گا، جب امریکہ محصول کی شرح، اس کے دائرے میں آنے والی مصنوعات اور اسے نافذ کرنے کی مدت کا اعلان کرے گا۔ برآمد کنندگان نے کہا کہ روس-یوکرین جنگ اور مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے خام مال کی قیمتیں اور نقل و حمل کی لاگت پہلے ہی بڑھ چکی ہیں۔قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ نے 18 ستمبر کو روس اور ایران پر پابندیاں عائد کرنے سے متعلق قانون پر دستخط کیے، جس کے تحت روس اور اس کے بڑے توانائی خریداروں پر بھاری ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون صدر ٹرمپ کو روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک، جن میں ہندوستان اور چین شامل ہیں، پر 100 فیصد تک محصول لگانے کا اختیار دیتا ہے۔ قانون صدر کے دستخط کے 30 دن کے اندر نافذ ہو جائے گا اور اس کے تحت ان ممالک سے درآمد کیے جانے والے سامان پر 100 فیصد تک محصول عائد کرنا ہوگا، جو قانون نافذ ہونے سے پہلے کے 12 ماہ کے دوران مجموعی مقدار کی بنیاد پر روسی خام تیل یا قدرتی گیس کے 5 سب سے بڑے خریداروں میں شامل ہیں۔ہندوستانی برآمدی تنظیموں کی فیڈریشن (فیو) کے صدر ایس سی رلہن نے کہا کہ ہم بہت فکرمند ہیں۔ اگر امریکہ بھاری ٹیرف عائد کرتا ہے تو اس سے امریکہ کو ہماری برآمدات مکمل طور پر رک جائیں گی۔ کوئی بھی درآمد کنندہ اتنا بھاری محصول برداشت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انجینئرنگ شعبہ کے کئی برآمد کنندگان کا امریکہ میں اہم کاروبار ہے اور نئے محصول پر کوئی فیصلہ لینے سے پہلے امریکہ کو ان پہلوؤں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ممبئی کے برآمد کنندہ اور ٹیکنوکرافٹ انڈسٹریز کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر شرد صراف نے بھی اسی طرح کی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیرف سے زیادہ غیر یقینی صورت حال کا اثر پڑتا ہے۔ صراف نے کہا کہ اس کے واضح اثر کا اندازہ اسی وقت لگایا جا سکتا ہے جب ہمارے پاس مکمل معلومات ہوں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ چین جیسے ہمارے حریف ممالک پر کتنا محصول عائد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نئے قانون کو لے کر کافی فکرمند ہیں، کیونکہ اس سے اب تک مضبوط رہے تجارتی تعلقات میں کافی غیر یقینی پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ ہندوستان جیسے ممالک پر دباؤ بنانے کی حکمت عملی کے طور پر اس کا استعمال کر سکتی ہے۔ٹریڈ پروموشن کونسل آف انڈیا (ٹی پی سی آئی) کے چیئرمین موہت سنگلا نے کہا کہ امریکی قدم ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے بڑی تشویش کا موضوع ہے۔ اگر اسے نافذ کیا جاتا ہے تو کچھ شعبوں پر اس کا سنگین اثر پڑ سکتا ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات میں خلل پیدا ہوگا۔ امریکی بازار میں بڑا کاروبار کرنے والے ایک دیگر برآمد کنندہ نے کہا کہ امریکی حکام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دنیا باہم مربوط ہے اور ممالک کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی پالیسی پر مبنی فیصلے سے تجارتی توازن متاثر نہیں ہونا چاہیے۔معروف چمڑا اور جوتا برآمد کنندہ اور فریدہ گروپ کے چیئرمین رفیق احمد نے کہا کہ ان کی کمپنی کی کل برآمدات کا 65 فیصد امریکہ کو جاتا ہے اور محصول میں کوئی بھی اضافی اضافہ ان برآمدی کھیپوں کو متاثر کرے گا۔ اقتصادی تحقیقی ادارے ’گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹو‘ (جی ٹی آر آئی) نے کہا کہ نیا امریکی قانون ہندوستان کو 100 فیصد تک ٹیرف کے براہ راست خطرے میں ڈالتا ہے اور اس کا استعمال نئی دہلی پر روسی تیل کی خرید کم کرنے اور ممکنہ طور پر 6 فروری کے مشترکہ بیان میں پیش کی گئی 18 فیصد ٹیرف کی شرح بحال کرنے کے بدلے غیر مساوی دو طرفہ تجارتی معاہدہ قبول کرنے کے لیے دباؤ بنانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔جی ٹی آر آئی کے بانی اجے شریواستو نے کہا کہ ہندوستان کو عارضی ٹیرف میں راحت کے لیے اپنی توانائی سلامتی سے سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ نہ تو تجارتی معاہدے پر دستخط کرنا اور نہ ہی روسی تیل کی خرید بند کرنا ہندوستان کو دفعہ 301، شعبہ وار محصول یا دیگر تجارتی قوانین کے تحت امریکہ کی مستقبل کی کارروائی سے بچائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے کے بعد بھی نئے ٹیرف عائد کیے ہیں۔ اس لیے ہندوستان کو امریکی ٹیرف سے متعلق دھمکیوں کو اپنی توانائی پالیسی طے کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تجارت میں ہندوستان سے امریکہ کو ہونے والی اہم برآمدات میں دوا سازی کی مصنوعات اور حیاتیاتی مصنوعات، ٹیلی مواصلاتی آلات، قیمتی اور نیم قیمتی پتھر، پٹرولیم مصنوعات، گاڑیاں اور گاڑیوں کے پرزے، سونا اور دیگر قیمتی دھاتوں کے زیورات، سوتی تیار ملبوسات اور لوہے و فولاد کی مصنوعات شامل ہیں۔ دوسری طرف امریکہ سے ہندوستان کی اہم درآمدات میں خام تیل، پٹرولیم مصنوعات، کوئلہ، کوک، کٹے اور تراشے ہوئے ہیرے، برقی مشینری، طیارے، خلائی جہاز و ان کے پرزے اور سونا شامل ہیں۔