کروڑوں لوگ آج بھی 5 کلو اناج پر منحصر، حکومت روزگار اور مہنگائی پر توجہ دے: کماری سیلجا

Wait 5 sec.

کانگریس کی رکن پارلیمنٹ کماری سیلجا نے پیپر لیک، ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں، یو پی آئی سے متعلق مسائل اور معاشی پالیسیوں کو لے کر مرکزی حکومت پر تنقید کی ہے۔ 20 ستمبر کو سرسا میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں کروڑوں لوگ آج بھی ہر ماہ پانچ کلو اناج پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ حکومت کو روزگار پیدا کرنے، مہنگائی سے راحت دینے اور مؤثر معاشی پالیسیاں بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔پیپر لیک کے معاملے پر کماری سیلجا نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کا بار بار سامنے آنا تشویش ناک ہے۔ ان کے مطابق پیپر لیک سے طلبہ کی محنت اور مستقبل متاثر ہوتا ہے اور والدین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی کے قریب پی جی سے متعلق ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو پہلے ہی رہائش اور تعلیم سے متعلق کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسے میں امتحانات میں بے ضابطگی ان کی مشکلات مزید بڑھا دیتی ہے۔کانگریس رکن پارلیمنٹ نے راہل گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوانوں کی آواز اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’طلبہ کی گونج‘ کے ذریعے طلبہ کے مسائل اور مطالبات سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیلجا نے الزام لگایا کہ حکومت کو طلبہ کی تعلیم، روزگار اور مستقبل کی مناسب فکر نہیں ہے۔ووٹر لسٹ سے متعلق مسائل پر سیلجا نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں ووٹر فہرستوں کو لے کر تنازعات اور نام حذف کیے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق بعض اوقات ایک ہی خاندان کے کچھ افراد کے نام ووٹر لسٹ سے حذف ہو جاتے ہیں اور انہیں نام دوبارہ شامل کرانے کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے خاص طور پر بزرگ شہریوں کو پریشانی ہوتی ہے۔سیلجا نے کہا، ’’نوکریوں کے نام پر دھاندلی، پڑھائی کے نام پر دھاندلی، امتحان کے نام پر دھاندلی، ہر طرف دھاندلی ہی دھاندلی چل رہی ہے۔‘‘یو پی آئی سے متعلق تنازع پر انہوں نے کہا کہ اس کا اثر ہر شخص پر براہ راست نظر نہ آئے، لیکن چھوٹے دکانداروں اور تاجروں پر پڑنے والے اضافی اخراجات بالآخر صارفین پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی تجارتی تنظیمیں اس سلسلے میں اپنی تشویش تحریری طور پر ظاہر کر چکی ہیں۔مرکزی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے سیلجا نے کہا کہ درآمدات اور تجارت سے متعلق پالیسیوں میں ملک کے مفادات کے ساتھ عام اور غریب لوگوں کے معاشی مفادات کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو لوگوں کو روزگار فراہم کرنے اور مہنگائی سے راحت دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔