کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دہلی کے ستیہ نکیتن میں پیش آئے عمارت منہدم ہونے کے حادثے کے حوالے سے طلبہ کے لیے محفوظ رہائش گاہوں کی کمی اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد کو لے کر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے حادثے میں جان گنوانے والے دیواس کے طالب علم ارپت جاج کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے نظام کی جواب دہی کا مطالبہ کیا۔راہل گاندھی نے ہفتہ کو اندور میں منعقدہ ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام کی تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’اس معصوم کی کیا غلطی تھی؟‘‘ ان کے مطابق ستیہ نکیتن کی سانحے میں اپنے بیٹے ارپت جاج کو کھونے والا خاندان نم آنکھوں سے یہی سوال کر رہا ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ اگر طلبہ کے لیے مناسب اور محفوظ ہاسٹل دستیاب ہوتے تو والدین کو اپنے بچوں کو خطرناک عمارتوں میں چلنے والے پیئنگ گیسٹ (پی جی) میں رکھنے پر مجبور نہ ہونا پڑتا۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر عمارتوں میں حفاظتی معیارات پر حقیقی معنوں میں عمل کیا جاتا تو شاید یہ حادثہ پیش ہی نہ آتا۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ یہ ایسی تباہی تھی جس کا تصور ان بچوں اور ان کے والدین نے کبھی خواب میں بھی نہیں کیا ہوگا۔ راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ ’’نظام کی غیر ذمہ داری اور بدعنوانی‘‘ نے خوابوں سے بھری کئی زندگیاں چھین لیں اور امیدوں سے وابستہ متعدد خاندانوں کو اجاڑ دیا۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ارپت جاج کا خاندان بھی ملک کے دیگر خاندانوں کی طرح جواب دہی چاہتا ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کی زندگیوں کی ذمہ داری طے ہونی چاہیے تاکہ آئندہ کسی والدین کو اپنے بچے کو اسی طرح کھونے کا درد نہ سہنا پڑے۔“उस मासूम की क्या गलती थी?”सत्य निकेतन की त्रासदी में अपने बेटे, अर्पित जाज, को खोने वाला परिवार डबडबाई आंखों से यही सवाल पूछ रहा है।अगर अच्छे और सुरक्षित हॉस्टल होते, तो उन्हें अपने बच्चे को ऐसी खतरनाक जगह में रखने के लिए मजबूर न होना पड़ता। और अगर सुरक्षा मानकों का सच में… pic.twitter.com/7eXXA8v4hA— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) September 20, 2026راہل گاندھی نے حکومت اور متعلقہ نظام سے براہ راست سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ نئے اور محفوظ ہاسٹل کیوں نہیں بنائے جا رہے؟ طلبہ کو غیر محفوظ پی جی میں رہنے پر مجبور کیوں ہونا پڑ رہا ہے؟ اور ستیہ نکیتن حادثے کی تحقیقات کہاں تک پہنچی ہیں؟ دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں 6 ستمبر کی دوپہر ایک پانچ منزلہ عمارت منہدم ہو گئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ اس عمارت میں پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ چل رہی تھی۔ حادثے میں کم از کم سات طلبہ کی موت ہوئی تھی جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔راہل گاندھی نے اندور کے ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام کے دوران ارپت جاج کے اہل خانہ سے بھی ملاقات اور گفتگو کی تھی۔ ان کی تازہ پوسٹ اسی ملاقات اور ستیہ نکیتن حادثے میں طالب علم کی موت کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔