امیگریشن کلیئرنس کے بغیر 3 اطالوی شہریوں کی روانگی کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ ایئر انڈیا کی اس شاہانہ مہمان نوازی کو دیکھ کر سیکورٹی ایجنسیاں بھی حیران ہیں۔ نہ ویزا کا مسئلہ، نہ پاسپورٹ پر مہر، سیدھے فلائٹ میں بیٹھے اور اڑ گئے۔ ہم بات کر رہے ہیں ان 3 اطالوی شہریوں کی، جو امرتسر سے دہلی آئے اور امیگریشن جانچ کی کوئی رسمی کارروائی مکمل کیے بغیر دہلی ایئرپورٹ سے براہ راست میونخ پہنچ گئے۔ دہلی ایئرپورٹ پر ہوئی اس لاپروائی کے معاملے میں وزارت داخلہ نے آج متعلقہ فریقین کی اہم میٹنگ طلب کی ہے۔وزارت شہری ہوابازی پہلے ہی ایئر انڈیا سے کئی اہم پہلوؤں پر جواب طلب کر چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ڈیمیج کنٹرول والی میٹنگ کی صدارت ہوم سکریٹری گووند موہن کریں گے۔ میٹنگ میں وزارت شہری ہوابازی کے سکریٹری اور ایڈیشنل سکریٹری، متعلقہ ایڈیشنل سکریٹری، بیورو آف امیگریشن کے کمشنر، ایئر انڈیا کے سی ای او اور دہلی ایئر انڈیا کے سی ای او شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ میٹنگ مرکزی وزارت شہری ہوابازی (ایم او سی اے) کے ذریعہ 12 ستمبر کو ایئر انڈیا کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنے کے بعد منعقد ہو رہی ہے۔ ایسے حالات میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آخر یہ تینوں غیر ملکی شہری دہلی ایئر پورٹ سے بغیر کسی جانچ کے کیسے پرواز کر گئے؟واضح رہے کہ یہ معاملہ 4 ستمبر کا ہے۔ 3 اطالوی شہری امرتسر سے دہلی آئے اور امیگریشن کا لازمی عمل مکمل کیے بغیر لفتھانزا کی فلائٹ (ایل ایچ-763) سے میونخ روانہ ہوگئے۔ اطلاع کے مطابق تینوں مسافر رات تقریباً 12.50 بجے امرتسر سے ایئر انڈیا کی فلائٹ (اے آئی-1115) سے دہلی پہچے تھے اور 1.45 بجے لفتھانزا کی فلائٹ میں سوار ہو کر میونخ چلے گئے۔ وزارت شہری ہوابازی نے اس معاملے میں 12 ستمبر کو ایئر انڈیا کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا تھا۔ خبر کے مطابق ان مسافروں نے بین الاقوامی پرواز سے قبل دہلی ایئرپورٹ پر امیگریشن کا لازمی عمل مکمل نہیں کیا۔ لگتا ہے یہ غلطی امرتسر ایئر پورٹ پر ہوئی ہے۔ انہیں امرتسر ایئر پورٹ پر 2 بورڈنگ پاس دیے گئے تھے۔ ایک دہلی کے لیے اور دوسرا لفتھانزا کی میونخ والی پرواز کے لیے۔ مسافروں کو دہلی پہنچ کر امیگریشن کا عمل مکمل کرنا تھا، لیکن انہیں ڈائریکٹ انٹرنیشنل ٹرانسفر والے علاقے میں بھیج دیا گیا، اس لیے وہ بغیر امیگریشن کے ہی اپنی انٹرنیشنل پرواز میں سوار ہو گئے۔واضح رہے کہ امرتسر ان ایئرپورٹس میں سے ایک ہے، جہاں حکومت نے ’ہب اینڈ اسپوک ماڈل‘ نافذ کیا ہے۔ اس ماڈل میں مسافر پہلے چھوٹے ہوائی اڈے (اسپوک) سے بڑے ہوائی اڈے (ہب) جاتے ہیں۔ وہاں امیگریشن کا عمل مکمل کرتے ہیں اور پھر انٹرنیشنل فلائٹ میں سوار ہوتے ہیں۔ ہب ایئرپورٹ پر انہیں صرف سیکورٹی جانچ کرانی ہوتی ہے، لیکن اس معاملے مین مسافر امرتسر (اسپوک) سے دہلی (ہب) جا رہے تھے اور وہاں سے میونخ کی پرواز لینی تھی۔ یہ دونوں پروازیں ہب اینڈ اسپوک سسٹم کے تحت نہیں چل رہی تھی۔ اس لیے مسافروں کو فلائٹ میں سوار ہونے سے پہلے دہلی میں امیگریشن کا عمل مکمل کرنا لازمی تھا۔