’میٹا‘ بچوں سے متعلق مکمل جانکاری دینے کو راضی، حکومت کی سختی نے جھکنے کو کیا مجبور

Wait 5 sec.

حکومت ہند بچوں کو انٹرنیٹ پر ہونے والے جنسی استحصال اور نقصاندہ مواد سے بچانے کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں پر سختی بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ حکومت مسلسل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے تاکہ بچوں سے متعلق قابل اعتراض مواد کی جلد شناخت ہو سکے اور اسے پلیٹ فارم سے ہٹایا جا سکے۔اس درمیان ’میٹا‘ نے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق معاملات کی معلومات قانون نافذ کرنے والی متعلقہ ایجنسیوں کے ساتھ شیئر کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں کام کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے بچوں کی آن لائن حفاظت سب سے اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے اور اس معاملے میں کسی بھی طرح کی لاپروائی قبول نہیں کی جائے گی۔حکومت کی توجہ ایسے مواد کی شناخت پر ہے، جو بچوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے یا ان کے جنسی استحصال سے متعلق ہو۔ افسران کی کوشش ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں اس طرح کے مواد کو صرف شکایت موصول ہونے کے بعد ہٹانے کے بجائے اس کی شناخت اور روک تھام کے لیے فعال نظام تیار کریں۔ میٹا کی جانب سے معلومات متعلقہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں تک پہنچانے پر رضامندی کو حکومت نے اس سمت میں ابتدائی قدم قرار دیا ہے۔ اس سے بچوں کے خلاف آن لائن جرائم کے معاملات کی تحقیقات میں ایجنسیوں کو مدد مل سکتی ہے۔حکومت صرف ’میٹا‘ تک محدود نہیں رہنا چاہتی۔ حکام کی دیگر سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔ مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بچوں سے متعلق قابل اعتراض اور غیر قانونی مواد کی بروقت شناخت کی جائے اور اسے ہٹانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز کو بچوں کی حفاظت کو اپنی ترجیحی ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔ اگر کوئی کمپنی اس سمت میں ضروری اقدامات کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اس کے خلاف ضوابط کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔حکومت ہند کا پیغام واضح ہے کہ بچوں کی آن لائن حفاظت کے معاملے میں کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو لاپروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت آنے والے وقت میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ایسے مواد کی نگرانی، شناخت اور اسے ہٹانے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر زور دے گی۔