تہواروں سے قبل ہوائی کرایے میں زبردست اضافہ ہو گیا ہے۔ جس کی وجہ سے عام لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس دوران صارفین پر پڑنے والے بوجھ کو دیکھتے ہوئے ’صنعتی تنظیم چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری‘ (سی ٹی آئی) نے مرکزی وزیر کو خط لکھا ہے، اور خط میں کرایوں پر لگام لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اطلاع کے مطابق تہواروں سے قبل ہوائی جہاز کے کرایوں میں 50 فیصد سے 100 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے، جس وجہ سے ہوائی سفر کرنا کافی مہنگا ہو گیا ہے۔ تہواروں کے موقع پر جلد گھر پہنچنے کے لیے لوگوں کو کافی زیادہ سوچنا پڑ رہا ہے، کرایوں میں اضافے کا براہ راست اثر لوگوں کی جیب پر پڑے گا۔ انہیں باتوں کے پیش نظر سی ٹی آئی نے شہری ہوا بازی کے وزیر رام موہن نائڈو کو خط لکھ کر ہوائی کمپنیوں کی منمانی پر لگام لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔त्योहारी सीजन शुरू होते ही हवाई यात्रियों पर महंगाई की मार पड़ने लगी है. दिल्ली और देशभर के व्यापारियों एवं उद्यमियों के संगठन चैंबर ऑफ ट्रेड एंड इंडस्ट्री (CTI) ने दावा किया है कि पिछले कुछ दिनों में घरेलू उड़ानों के किराए में 50% से 100% तक की बढ़ोतरी हुई है.पूरी ख़बर:… pic.twitter.com/Yyt2VHM9GL— AajTak (@aajtak) September 20, 2026سی ٹی آئی کے چیئرمین برجیش گوئل نے بتایا کہ سی ٹی آئی کی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ چند دنوں قبل جو ہوائی ٹکٹ سستے تھے، وہی ٹکٹ اب ڈبل سے زیادہ قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں میں اچانک انڈیگو، ایئر انڈیا وغیرہ ہوائی کمپنیوں نے ہوائی کرایوں میں 50 فیصد سے 100 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے، جس سے متوسط طبقے اور اعلیٰ متوسط طبقے کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ گنپتی مہوتسو کے ساتھ ہی ملک میں تہواروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جو دیوالی اور چھٹھ پوجا تک جاری رہے گا، ایسے میں لوگوں کے ہوائی سفر کی فریکوئنسی بھی بڑھے گی۔ وہیں ایسے وقت میں 100 فیصد کرایہ بڑھا دینا ہوائی کمپنیوں کی منمانی ہے۔کچھ عرصہ قبل تک دہلی- ممبئی آمد و رفت کا ہوائی کرایہ 10000 روپے تھا، وہ اب بڑھ کر 18000 سے 25000 روپے ہو گیا ہے۔ دہلی-احمد آباد کا کرایہ 10000 سے 12000 روپے تھا، وہ اب بڑھا کر 18000 سے 20000 روپے کر دیا گیا ہے۔ دہلی-بنگلورو کا کرایہ 12000 سے 15000 روپے تھا، جو اب بڑھا کر 30000 سے 35000 روپے کر دیا گیا ہے۔ دہلی-کولکاتہ کا کرایہ جو پہلے 11000 روپے تھا، وہ اب بڑھا کر 20000 روپے کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انڈیگو نے شیر خوار بچوں (3 دن سے 2 سال تک) کا کرایہ بھی 2000 روپے سے بڑھا کر 3000 روپے کر دیا ہے، جبکہ شیر خوار بچے کو ہوائی جہاز میں سیٹ بھی نہیں ملتی ہے۔برجیش گوئل نے کہا کہ ایوی ایشن ڈاٹا ایجنسی (او اے جی) کے مطابق کمپنیوں نے ستمبر میں ہی گھریلو پروازوں کی گنجائش 5.6 فیصد کم کر دی ہے۔ انڈیگو نے 4.5 فیصد اور ایئر انڈیا نے 8.8 فیصد سیٹیں کم کی ہیں، جبکہ دونوں کمپنیوں کا 90 فیصد سے زیادہ مارکیٹ پر قبضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہواروں کے موقع پر سیٹیں کم کرکے کرایہ بڑھانا لوٹ ہے۔ سی ٹی آئی کا مرکزی حکومت سے مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر ہوائی کمپنیوں پر لگام لگائے اور ہوائی کرایوں میں کمی کرائے۔