لندن : دنیا کے امیر ممالک میں خسرہ ویکسین لگوانے میں ہچکچاہٹ کے سبب وبا کے مکمل خاتمے کا خواب ادھورا رہ گیا، خسرہ سے سالانہ ایک لاکھ بچوں کی اموات ہورہی ہیں۔مائیکرو سافٹ کے شریک بانی اور عالمی صحت کے شعبے میں سرگرم ارب پتی بل گیٹس نے کہا ہے کہ امیر ممالک میں ویکسین لگوانے سے ہچکچاہٹ کے بڑھتے رجحان کے باعث دنیا سے خسرہ کا مکمل خاتمہ فی الحال ممکن نہیں رہا۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے بل گیٹس نے بتایا کہ ایک وقت میں ان کی فاؤنڈیشن کے ممکنہ اہداف میں خسرہ کو دنیا بھر سے ختم کرنا بھی شامل تھا، تاہم امیر ممالک میں ویکسین سے متعلق شکوک و شبہات میں اضافے نے اس ہدف کو فی الحال فہرست سے باہر کردیا ہے۔بل گیٹس نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے کہ ویکسین کے حوالے سے پیدا ہونے والے شکوک اور ہچکچاہٹ کے باعث خسرہ کے مکمل خاتمے کا مقصد حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔بل گیٹس کے مطابق ویکسین کی دستیابی سے قبل 1960 کی دہائی میں ہر سال تقریباً 20 لاکھ بچے خسرہ کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے، تاہم ویکسین کے بعد صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔اس کے باوجود اب بھی دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ بچے خسرہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں، جن میں بڑی تعداد ایسے ممالک سے تعلق رکھتی ہے جہاں جنگ، کمزور نظام صحت یا ویکسین کی ترسیل میں مشکلات کے باعث حفاظتی ٹیکوں کی شرح کم ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق خسرہ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے آبادی کے کم از کم 95 فیصد حصے کو ویکسین لگانا ضروری ہے۔بل گیٹس نے خبردار کیا کہ یہ خدشہ ضرور موجود رہتا ہے کہ امریکا جیسے ممالک میں ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات کا رجحان عالمی سطح پر بھی پھیل سکتا ہے، تاہم ان کی فاؤنڈیشن جن کم آمدنی والے ممالک میں کام کرتی ہے وہاں اب تک ویکسین سے ہچکچاہٹ میں نمایاں اضافہ سامنے نہیں آیا۔بل گیٹس نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ عالمی امداد بحال کریں یا کم از کم اسے مزید کم کرنے سے گریز کریں، کیونکہ ترقی پذیر ممالک میں صحت کے نظام اور ویکسینیشن پروگرام پہلے ہی متعدد مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔واضح رہے کہ خسرہ کا شمار دنیا کی انتہائی تیزی سے پھیلنے والی متعدی بیماریوں میں ہوتا ہے، اس کی عام علامات میں تیز بخار، کھانسی اور جسم پر نمایاں سرخ دانے ہونا شامل ہیں۔ٹیکساس میں خسرہ کی وباء پھیل گئی، سیکڑوں کیسز رپورٹ