دھنباد کے کوئلہ علاقے میں پھر دھنسی زمین، چار مکانات کو نقصان، دو مکمل طور پر زمین بوس

Wait 5 sec.

جھارکھنڈ کے دھنباد ضلع کے کوئلہ علاقے میں زمین دھنسنے کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کو لوئے آباد تھانہ علاقے کے 7 نمبر مسلم محلے میں اچانک تیز آواز کے ساتھ زمین دھنس گئی۔ اس کی زد میں چار مکانات آ گئے، جن میں سے دو مکمل طور پر زمین بوس ہو گئے۔ مکانات میں رکھا گھریلو سامان بھی زمین کے اندر سما گیا۔حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق زمین دھنسنے سے پہلے زور دار دھماکے جیسی آواز سنائی دی، جس کے بعد لوگ خوف زدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔ کچھ دیر کے لیے علاقے میں افراتفری کی صورت حال پیدا ہو گئی۔ بتایا گیا کہ متاثرہ مکانات میں رہنے والے افراد بروقت باہر نکل آئے، جس کی وجہ سے بڑا حادثہ ٹل گیا۔واقعے کی اطلاع ملنے پر لوئے آباد تھانے کی پولیس موقع پر پہنچی اور متاثرہ علاقے کی ناکہ بندی کرتے ہوئے بیریکیڈنگ کر دی۔ لوگوں کو خطرناک حصے میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ انتظامیہ اور بھارت کوکنگ کول لمیٹڈ (بی سی سی ایل) کے افسران نے بھی موقع پر پہنچ کر صورت حال کا جائزہ لیا۔ زمین دھنسنے کی وجہ اور متاثرہ علاقے کے ممکنہ دائرے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔دھن باد کے کوئلہ علاقے میں گزشتہ تقریباً ڈیڑھ ماہ کے دوران زمین دھنسنے کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔ اگست میں کتراس تھانہ علاقے کے چھات آباد میں بڑے پیمانے پر زمین دھنسنے سے 12 سے زائد مکانات متاثر ہوئے تھے۔ کئی مکانات زمین میں دھنس جانے کے بعد متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا تھا۔ستمبر میں بھی چھات آباد میں دوبارہ زمین دھنسنے کا واقعہ پیش آیا۔ خوشبو محلے سے مسجد روڈ تک زمین اور سڑکوں میں دراڑیں پڑنے کے ساتھ تقریباً ایک درجن مکانات متاثر ہوئے تھے۔ انتظامیہ نے علاقے کو گھیر کر لوگوں کو وہاں جانے سے روک دیا تھا، جبکہ بی سی سی ایل نے آمدورفت پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ راحت اور بازآبادکاری کی کارروائی شروع کی تھی۔8 ستمبر کو سجویا کے تین پٹیاں دھوڑا علاقے میں زور دار آواز کے ساتھ زمین دھنسنے سے چار مکانات زمین بوس ہوگئے تھے۔ ایک خاندان کے پانچ افراد ملبے میں دب گئے تھے۔ مقامی لوگوں نے انہیں باہر نکالا، تاہم پانچ سالہ بچے کی موت ہوگئی تھی، جبکہ خاندان کے دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کے لیے بعد میں سروے اور زمین کے کھوکھلے حصوں کو بھرنے کا کام شروع کیا گیا۔اسی ماہ مہیش پور کولیری کے او بی ڈمپنگ علاقے میں بھی زمین دھنسنے کا واقعہ سامنے آیا۔ اس کے علاوہ باری چھ نمبر بستی، لودنا اور کیشل پور-کمار پٹی علاقوں میں بھی زمین دھنسنے اور کان دھنسنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ کیشل پور-کمار پٹی میں غیر قانونی کان کنی کے دوران چھت گرنے سے تین افراد کی موت کی اطلاع سامنے آئی تھی۔مسلسل پیش آنے والے ان واقعات نے کوئلہ علاقے میں رہنے والے خاندانوں کی سلامتی پر تشویش بڑھا دی ہے۔ ان علاقوں میں پرانی زیر زمین کانوں، خالی زیر زمین حصوں اور مسلسل کان کنی کی سرگرمیوں کے باعث زمین کے استحکام پر پہلے سے سوال اٹھتے رہے ہیں۔ انتظامیہ اور بی سی سی ایل کی جانب سے متاثرہ علاقوں کی نگرانی، خطرناک مقامات کی ناکہ بندی اور متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔