کلکتہ ہائی کورٹ نے ممتا بنرجی کو شری رام پور میں جلسۂ عام کی مشروط اجازت دے دی، 1000 لوگوں کی حد طے

Wait 5 sec.

کلکتہ ہائی کورٹ نے جمعرات (17 ستمبر) کو مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو ہگلی ضلع کے شری رام پور کورٹ میدان میں 26 ستمبر کو جلسۂ عام کی مشروط اجازت دے دی۔ عدالت نے جلسۂ عام میں زیادہ سے زیادہ 1000 افراد کے شامل ہونے کی حد مقرر کی ہے۔ جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی سنگل بنچ نے جلسۂ عام کا وقت شام 4 بجے سے 6 بجے تک مقرر کیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جلسۂ عام کے بعد کوئی ریلی یا جلوس نہیں نکالا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی منتظمین کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ قریب سے گزرنے والی مصروف گرینڈ ٹرنک روڈ پر ٹریفک کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری رہے۔سیاست کو خیرباد نہیں کہوں گی، بی جے پی کو حاشیہ پر دھکیلنے تک نہیں رکوں گی: ممتا بنرجیترنمول کانگریس نے شری رام پور میں تقریباً 2000 پارٹی کارکنان کی موجودگی میں جلسۂ عام منعقد کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ حالانکہ ریاستی حکومت نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ریاستی حکومت کی جانب سے دلیل دی گئی کہ شری رام پور کورٹ میدان کافی تنگ ہے۔ اس کے علاوہ سابق وزیر اعلیٰ کو زیڈ پلس سیکورٹی حاصل ہونے کی وجہ سے سیکورٹی انتظامات کے لیے ان کے سامنے کچھ جگہ خالی رکھنی ہوگی۔ حکومت کے وکیل نے کہا کہ اگر اس خالی جگہ کے باہر 2000 افراد جمع ہوتے ہیں تو بھگدڑ کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس کی جانب سے رکن پارلیمنٹ اور سینئر وکیل کلیان بنرجی نے ریاستی حکومت کی دلیل کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اسی میدان میں مشہور گلوکارہ شریا گھوشال کے پروگرام کے دوران تقریباً 50000 افراد جمع ہوئے تھے۔فریقین کی دلیلیں سننے کے بعد جسٹس بھٹاچاریہ نے زیادہ سے زیادہ 1000 افراد کی موجودگی میں جلسۂ عام منعقد کرنے کی اجازت دے دی۔ اس سے قبل ٹی ایم سی 11 ستمبر کو شری رام پور میں جلسۂ عام کے بعد ریلی نکالنا چاہتی تھی۔ پولیس کی اجازت کو لے کر پیدا ہوئے تنازعہ کے بعد معاملہ کلکتہ ہائی کورٹ پہنچا تھا۔ اس کے بعد اسی سنگل بنچ نے ممتا بنرجی کو شری رام پور کے مہیش واقع سنان پیری میدان میں جلسۂ عام کرنے کی اجازت دی تھی۔ حالانکہ اس کے بعد قریب واقع جگن ناتھ مندر کے ٹرسٹ بورڈ نے ہائی کورٹ کا رخ کرتے ہوئے سنگل بنچ کے حکم کو چیلنج کیا۔ٹرسٹ بورڈ نے دلیل دی کہ سنان پیری میدان ذاتی ملکیت ہے اور وہاں کسی بھی سیاسی پروگرام کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے معاملے کو دوبارہ جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی اسی سنگل بنچ کے پاس بھیج دیا۔ اب جمعرات کو عدالت نے مقام تبدیل کرتے ہوئے شری رام پور کورٹ میدان میں جلسۂ عام کے لیے مشروط اجازت دے دی۔