یو پی آئی کے ذریعہ پیمنٹ کیے جانے کی صورت میں کچھ فیصد فیس لیے جانے پر کانگریس کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اے آئی سی سی سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی چیئرپرسن سپریہ شرینیت نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’نوٹ بندی کے بعد حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے کہا تھا کہ کیش کو ڈیمنائز کرنے کی بات اس لیے کی جا رہی ہے تاکہ چند لوگوں کی جیب میں پیسہ ڈالا جا سکے۔‘‘ مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ ’’یو پی آئی پر مار، غریب پر وار اور امریکہ کے سامنے پھر جھکی مودی سرکار۔ وصولی مَین مودی کا قہر جاری ہے اور اس بار کی وصولی نریندر مودی امریکہ کے سامنے سرینڈر کرنے کی وجہ سے کر رہے ہیں۔‘‘नोटबंदी के बाद नेता विपक्ष राहुल गांधी जी ने कहा था- कैश को डीमनाइज करने की बात इसलिए की जा रही है, ताकि चंद लोगों की जेब में पैसा डाला जा सके।'UPI पर मार, गरीब पर वार और अमेरिका के सामने फिर झुकी मोदी सरकार''वसूली मैन' मोदी का कहर जारी है और इस बार की वसूली नरेंद्र मोदी… pic.twitter.com/b8yhESWsPw— Congress (@INCIndia) September 16, 2026سپریہ شرینیت کا کہنا ہے کہ ’’وصولی کے نئے پلان میں 2000 روپے سے اوپر کے ہر مرچنٹ یو پی آئی پیمنٹ پر 0.4 فیصد کا چارج وصولا جائے گا۔ اگر آپ نے 5000 روپے کی خریداری کی تو 20 روپے کا چارج لگے گا، اگر 10000 کی خریداری کی تو 40 روپے وصولا جائے گا۔ پہلے یو پی آئی پیمنٹ پوری طرح فری تھا، لیکن نریندر مودی سے یہ دیکھا نہیں گیا اور انہوں نے یہاں بھی وصولی کا کھیل شروع کر دیا۔ یہ وصولی ملک کے نوجوانوں، غریبوں، طلبہ، مزدوروں اور خواتین سے کی جائے گی۔ مگر اب حکومت ایک جھنجھنا پکڑا رہی ہے کہ اس کا اثر کسی صارف پر نہیں ہوگا بلکہ مرچنٹ پر پڑے گا۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ کوئی بھی مرچنٹ بڑھے ہوئے خرچ کو نہیں جھیلے گا۔ آخر میں مرچنٹ سامانوں کی قیمت میں اضافہ کر دے گا اور صارف سے پیسہ وصولا جائے گا۔‘‘سپریہ شرینیت کا کہنا ہے کہ ’’امریکہ کی پیمنٹ کمپنیاں مسلسل ہندوستان کی ’زیرو ایم ڈی آر‘ پالیسی کی مخالفت کرتی رہی ہے، جن کے سامنے نریندر مودی نے سرینڈر کر دیا ہے۔ یو ایس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو کی 2026 کی رپورٹ میں ہندوستان کے یو پی آئی اور ’روپے‘ کے مفت ہونے پر تنقید کی گئی تھی۔ کہا گیا کہ اس سے امریکہ کے ویزا اور ماسٹر کارڈ کا نقصان ہو رہا ہے۔ امریکہ نے کہا کہ ہندوستان کو ایم ڈی آر بڑھانا چاہیے، ایسا انہوں نے کہا اور نریندر مودی نے یہ کر دکھایا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اس پورے معاملے کو مزید آسان زبان میں سمجھتے ہیں۔ یو پی آئی کیا ہے؟ یہ ہندوستانی اداروں اور بینکوں کے ذریعہ آن لائن لین دین کے لیے بنایا گیا ادائیگی کا نظام ہے۔ ایم ڈی آر کیا ہے؟ مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ وہ فیس ہے جو تاجر ڈیجیٹل ادائیگی کو پروسیس کرنے کے لیے بینکوں اور پیمنٹ پرووائیڈرز کو دیتا ہے۔ نئے یو پی آئی اصول میں کیا ہے؟ پرسن ٹو مرچنٹ (پی2ایم) یو پی آئی لین دین پر 2000 روپے سے اوپر 0.4 فیصد ایم ڈی آر لگے گا، اب تک یہ مفت تھا۔ 26-2025 میں پی2ایم کے تقریباً 605 کروڑ ٹرانزیکشن ایسے تھے جو ویلیو میں 2000 روپے سے اوپر تھے، جن کی مجموعی مالیت 66 لاکھ روپے سے زیادہ تھی۔‘‘अमेरिका की पेमेंट कंपनियां लगातार भारत की Zero MDR नीति का विरोध करती रही हैं, जिनके सामने नरेंद्र मोदी ने सरेंडर कर दिया है। US Trade Representative की 2026 की रिपोर्ट में भारत की UPI और RuPay के मुफ्त होने की आलोचना की गई थी। कहा गया कि इससे अमेरिका के Visa और Mastercard का… pic.twitter.com/8ygigionhb— Congress (@INCIndia) September 16, 2026سپریہ شرینیت نے مزید کہا کہ ’’اب سوال اٹھتا ہے کہ 2000 روپے سے اوپر کے مرچنٹ یو پی آئی پیمنٹ پر جو چارج لگایا گیا ہے... اس کے سب سے بڑے فائدہ اٹھانے والے کون ہیں؟ جواب ہے فون پے اور گوگل پے، ان کا 86 فیصد مارکیٹ پر قبضہ ہے، ایسے میں ایم ڈی آر ریونیو ان کی کمائی اور ویلیو ایشن بڑھائے گا۔ یعنی اس کا سب سے بڑا فائدہ فون پے، گوگل پے اور امیزن پے کو ہوگا، یہ تمام امریکی کمپنیوں سے منسلک پلیٹ فارم ہیں۔ مطلب ہندوستانیوں کی جیب سے وصولی کر امریکی کمپنیوں کی تجوریاں بھری جا رہی ہے۔‘‘अब सवाल उठता है कि 2,000 रुपए से ऊपर के Merchant UPI पेमेंट पर जो चार्ज लगाया गया है... उसके सबसे बड़े लाभार्थी कौन हैं?जवाब है- • PhonePe • Google PayPhonePe और Google Pay का 86% मार्केट पर कब्जा है, ऐसे में MDR रेवेन्यू उनकी कमाई और वैल्यूएशन बढ़ाएगा। यानी इसका सबसे… pic.twitter.com/biMllWVPdB— Congress (@INCIndia) September 16, 2026سپریہ شرینیت نے کہا کہ ’’یو پی آئی کو چلانے کے لیے ہر سال 20700 کروڑ روپے چاہئیں۔ ایسے میں کئی ’بھکت‘ کہہ رہے ہیں کہ یو پی آئی کو چلانے کے لیے پیسہ نہیں ہے۔ لیکن مالی سال 26-2025 میں آر بی آئی نے مودی حکومت کو 3 لاکھ کروڑ سرپلس ٹرانسفر کیے، ملک کے لسٹڈ بینکوں کا منافع 4.11 لاکھ کروڑ سے اوپر ہے اور یو پی آئی کو چلانے والی این پی سی آئی کا پری ٹیکس 1888 کروڑ روپے ہے۔ یعنی آر بی آئی جو پیسہ حکومت کو دے رہا ہے اس کے محض 7.2 فیصد حصے سے پورا یو پی آئی چل جائے گا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’مگر دقت والی بات یہ ہے کہ مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا: مودی حکومت اگست میں ٹیکسیشن اینڈ ادر لاز امینڈمنٹ بل 2026 لائی، جس کی وجہ سے مفت یو پی آئی پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) لگانے کا راستہ کھل گیا۔ لیکن... 6 اگست کو وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ ایم ڈی آر پر کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا۔ 10 اگست کو وزیر خزانہ نے ایوان میں کہا کہ ایم ڈی آر کا کوئی فریم ورک فائنل نہیں کیا گیا ہے۔ 14 ستمبر کو نوٹیفکیشن نکال کر ایم ڈی آر چارج لگا دیا گیا۔‘‘ ان کے مطابق یو پی آئی سے وصولی کا مطلب ہے یو پی آئی کو کمزور کرنا۔ واضح ہے کہ نریندر مودی نے اپنے دوست ڈونالڈ ٹرمپ کے دباؤ میں یو پی آئی کو کمزور کیا اور ڈیجیٹل پیمنٹس سے کمائی کرنے کا راستہ امریکی کمپنیوں کے لیے کھول دیا ہے۔UPI को चलाने के लिए हर साल ₹20,700 करोड़ रुपये चाहिए। ऐसे में कई भक्त कह रहे हैं कि UPI को चलाने के लिए पैसा नहीं है।लेकिन FY 2025-26 में • RBI ने मोदी सरकार को ₹3 लाख करोड़ सरप्लस transfer किए• देश के लिस्टेड बैंकों का मुनाफा ₹4.11 लाख करोड़ से ऊपर है • UPI को… pic.twitter.com/a7WSCoXmIr— Congress (@INCIndia) September 16, 2026