او آئی سی کی جانب سے مکہ اور مدینہ کے علاقوں پر حوثی حملوں کی شدید مذمت

Wait 5 sec.

جدہ: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی عرب میں مکہ اور مدینہ کے علاقوں پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔او آئی سی نے بدھ کے روز دنیائے اسلام کے مقدس شہر مکہ پر حوثیوں کے حملے کی مذمت کی ہے، اور کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔اسلامی تعاون تنظیم نے ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ’’او آئی سی کی جنرل سیکریٹریٹ مکہ شہر اور مدینہ کے علاقے کے خلاف حوثی گروپ کے کیے گئے حملوں، نیز مملکتِ سعودی عرب کے خلاف اس کی جاری جارحیت کی مذمت کرتی ہے۔‘‘تنظیم نے بیان میں کہا کہ ان حملوں سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلتا ہے، اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں، مقدس مقامات، مساجد اور شہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف حملے دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔The OIC General Secretariat Condemns the Houthi Attacks on Makkah and the Madinah Region#OIC #Makkah #Madinah #SaudiArabia #Houthi pic.twitter.com/nQaz3CF2ol— OIC (@OIC_OCI) September 15, 2026او آئی سی کے مطابق یہ حملے اسلامی اقدار، بین الاقوامی اصولوں، ضوابط اور قانون کے منافی ہیں، مقدس مقامات کی حرمت کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول ہے۔مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والا ڈرون تباہواضح رہے کہ سعودی عرب کے زیرِ قیادت فوجی اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی فضائی دفاع نے منگل کے روز مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو اُس وقت روک کر تباہ کر دیا جب وہ مقدس شہر کے اوپر ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہو رہا تھا۔ترجمان ترکی المالکی نے بدھ کی صبح کہا ڈرون کے ذریعے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، واقعہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش ہے، اس سے قبل 27 جولائی 2017 کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ترجمان کے مطابق ڈرون حملے کی کوشش لاکھوں مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرنے کی سنگین کوشش تھی، حملے کی کوشش حرمین شریفین کے سیکیورٹی اہلکاروں کو خوف زدہ کرنے کے مترادف ہے، ترجمان نے حملے کی کوشش شہریوں اور مقیم افراد کو نقصان پہنچانے کی سنگین کوشش بھی قرار دے دی۔ا