بہار کے پورنیہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپو یادو نے بہار میں محکمہ تعلیم کے ذریعہ آج وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر ’آشیرواد کا دیا‘ پروگرام منانے کے حکم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ بہار میں اس طرح کے پروگرام کے انعقاد کو بے شرمی والا عمل قرار دیا۔ اس سلسلے میں پپو یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ بھی کی ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’’وزیر اعظم کی سالگرہ پر دیا جلانے کے لیے حکومت کتنی بے چین ہے؟ ساری شرم کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔‘‘PM के जन्मदिन पर दीया जलाने कोकितनी बेचैन है सरकार?सारी शर्म कोताक पर रख दिया।राज्य का 18 जिला बाढ़ प्लावित है,उसदौरान सारे शिक्षकों को मोदी जी के जन्मदिन पर दीया जलाने के अभियान मेंलगाना,इनके बेशर्मी के विश्वगुरु होना कानग्न प्रमाण है।मूर्खों शिक्षकों का तो न करो अपमान pic.twitter.com/6gNFfggKto— Rajesh Ranjan Pappu Yadav (@pappuyadavjapl) September 16, 2026پپو یادو نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ریاست کے 18 اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں، ایسے وقت میں تمام اساتذہ کو مودی جی کی سالگرہ پر دیا جلانے کی مہم میں لگانا ان کی بے شرمی کے ’وشوگرو‘ ہونے کا واضح ثبوت ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’احمقوں، اساتذہ کی توہین تو نہ کرو۔‘‘ واضح رہے کہ پپو یادو نے پوسٹ کے ساتھ جو حکم نامہ شیئر کیا ہے، اس میں خصوصی سکریٹری دھرمیندر کمار نے تمام اضلاع کے محکمہ تعلیم کے افسران کو ہدایت دی ہے کہ تمام اضلاع کے سرکاری اسکولوں میں آج (17 ستمبر) کی شام اسکول اور طلبہ ہاسٹل میں ’آشیرواد کا دیا‘ جلایا جائے۔’انتخاب میں نظر آتے ہیں ہیلی کاپٹر، بحران کے وقت لیڈران غائب‘، پپو یادو نے سیلاب کو لے کر مرکزی حکومت کو بنایا ہدف تنقیدقابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی پیر (14 ستمبر) کو پپو یادو نے بہار میں سیلاب کی صورتحال کو لے کر مرکزی اور ریاست کی این ڈی اے حکومت پر جم کر حملہ بولا تھا۔ پٹنہ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سمیت حکمراں جماعت کے لیڈران پر سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کے مطابق بہار کے 19 سے 22 اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں اور تقریباً 1.46 لاکھ ہیکٹر زمین زیر آب ہے۔ تقریباً 56 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہیں اور کئی علاقوں میں لوگوں کو کھانے، پینے کے پانی، ادویات، پلاسٹک شیٹ اور مویشیوں کے چارے تک کی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی گاؤں میں لوگ گزشتہ کئی دنوں سے آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں اور سانپ کے کاٹنے اور کرنٹ لگنے سے بھی لوگوں کی موت ہو رہی ہے۔