آج جب ہر شخص پر ایک ہی دھن سوار رہتی ہے کہ وہ کسی طرح ایک کامیاب انسان بن جائے، کیا آپ جانتے ہیں کہ 20 ویں صدی کے سب سے بااثر طبیعیات دانوں میں شمار ہونے والے البرٹ آئن اسٹائن نے کہا تھا کہ ’’کامیاب انسان بننے کی کوشش نہ کرو۔‘‘آئن اسٹائن کا انتقال 18 اپریل 1955 کو ہوا تھا، انتقال سے چند ہی ہفتے قبل انھوں نے ایک گفتگو میں ’’کامیاب انسان بننے‘‘ سے متعلق یہ لازوال مشورہ دیا تھا، یہ گفتگو 2 مئی 1955 کے لائف میگزین کے ایک مضمون میں چھپی تھی، جسے ولیم ملر نے لکھا تھا۔مضمون کا عنوان تھاOld Man’s Advice to Youth: ‘Never Lose a Holy Curiosityآئن اسٹائن سے منسوب جملہ یوں ہےTry not to become a man of success but rather try to become a man of value.اس مضمون کے مطابق ولیم ملر آئن اسٹائن سے ملنے پرنسٹن، نیو جرسی گئے تھے، ان کے ساتھ اُن کا بیٹا پیٹ ملر اور پروفیسر ولیم ہرمنز بھی تھے۔ ملر کا بیٹا یونی ورسٹی طالب علم تھا اور زندگی اور اپنے مستقبل کے حوالے سے سوالات کے جوابات تلاش کر رہا تھا۔ ملر کو امید تھی کہ آئن اسٹائن اس نوجوان کو کچھ متاثر کن مشورے دیں گے۔لیکن اس موقع پر آئن اسٹائن نے نوجوان کو صرف ’’کامیاب ہونے‘‘ کی بہ جائے قدر رکھنے والا انسان (مین آف ویلیو) بننے کا مشورہ دیا۔آئن اسٹائن نے مشورہ دیا کہ ’’کامیاب انسان بننے کی کوشش مت کرو، بلکہ ایسا انسان بننے کی کوشش کرو جس کی قدر ہو۔‘‘ انھوں نے کامیابی اور قدر کا فرق بھی واضح کیا، کہ کامیاب شخص وہ ہے جو زندگی سے اس سے زیادہ حاصل کرتا ہے جتنا وہ اسے دیتا ہے، جب کہ ’’قدر مند شخص‘‘ وہ ہے جو دوسروں کو اس سے زیادہ دیتا ہے جتنا خود حاصل کرتا ہے۔اس گفتگو میں آئن اسٹائن نے کامیابی اور انسانی قدر میں فرق کیا کہ صرف دولت، عہدہ یا شہرت حاصل کرنا زندگی کا واحد مقصد نہیں ہے، زیادہ اہم یہ ہے کہ انسان دوسروں اور معاشرے کو کیا دیتا ہے۔اُن کے نزدیک قابلِ قدر انسان وہ ہے جو حاصل کرنے سے زیادہ دینے کی کوشش کرے۔ اسی گفتگو میں انھوں نے تجسس، سوال کرنے اور مسلسل سیکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، اور کہا ’’اہم بات یہ ہے کہ سوال کرنا کبھی بند نہ کیا جائے۔‘‘