واشنگٹن: امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹ اضافہ کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ امریکی معیشت کو تیزی سے متاثر کر رہی ہے، ایسے وقت میں پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی لائی گئی ہے، فیڈرل ریزرو نے بدھ کے روز توقع کے مطابق اپنی بینچ مارک شرحِ سود میں اضافہ کر دیا۔یہ 2023 کے بعد شرحِ سود میں پہلا اضافہ ہے، جس کا مقصد اخراجات میں کمی لانا اور افراطِ زر کو معیشت میں مزید جڑ پکڑنے سے روکنا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان امریکیوں کے لیے قرض لینے کی لاگت مزید بڑھ جائے گی جو پہلے ہی گھروں، گاڑیوں اور دیگر مہنگی اشیا کی خریداری کے اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔امریکا میں شرح سود 3.75 فی صد سے بڑھ کر 4 فی صد کی حد میں آ گئی ہے، چیئرمین فیڈرل ریزرو کیون وارشن نے اپنے بیان میں کہا کہ مہنگائی اب بھی ہدف سے زیادہ ہے، جسے 2 فی صد تک لانا فیڈ کی پہلی ترجیح ہے۔ایران جنگ خود امریکی عوام کو مہنگی پڑگئیدوسری جانب شرح سود میں اضافے سے 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی پیداوار 2007 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر واپس پہنچ گئی ہے، حصص کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں شرحِ سود ایک فیصد یا اس سے کم ہونی چاہیے، امریکی معیشت میں نئی سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے، امریکا اب دوسرے ممالک کا بوجھ برداشت نہیں کرے گا۔