ایران جنگ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے، امریکی صدر

Wait 5 sec.

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے اہم بیان میں کہنا ہے کہ امید ہے ایران میں جاری جنگ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی میڈیا کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر کی خلیجی رہنماؤں سے ملاقات متوقع ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق ملاقات میں جنگ کے بعد کی حکمت عملی سے متعلق امریکی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کے لیے تیسری مرتبہ جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد کو منظور کرلیا گیا ہے۔یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کانگریشنل بجٹ آفس نے جنگ کی لاگت کم از کم 38 ارب ڈالر اور امریکی دفاعی میزائلوں کے ذخیرے کو دوبارہ مطلوبہ سطح پر لانے میں کم از کم 5 سال لگنے کا تخمینہ پیش کیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایوان نمائندگان میں قرارداد 204 کے مقابلے میں 220 ووٹوں سے منظور ہوئی۔ خاص بات یہ تھی کہ اس بار چند مزید ریپبلکن ارکان نے بھی زیادہ تر ڈیموکریٹس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔تاہم، اس نوعیت کی سابقہ قراردادوں کی طرح اس قرارداد کو بھی سینیٹ سے منظوری اور امریکی صدر کے دستخط کے بغیر قانون نہیں بنایا جاسکتا، جبکہ ٹرمپ کی جانب سے اسے ویٹو کیے جانے کا امکان ہے۔کانگریشنل بجٹ آفس کی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جاری رہنے کی صورت میں اس کی لاگت ہر ماہ تقریباً 3 ارب ڈالر مزید بڑھ سکتی ہے۔امریکا نے خلاء میں ہتھیار نصب کرنے کی تصدیق کردیایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف دفاعی کارروائیوں میں پیٹریاٹ، تھاڈ اور بحری انٹرسیپٹر میزائلوں کی بڑی تعداد استعمال ہوچکی ہے، جس کے باعث امریکی ذخائر اس حد تک کم ہوگئے ہیں کہ پیداوار بڑھانے کے باوجود انہیں دوبارہ بھرنے میں کم از کم 5 سال لگ سکتے ہیں۔