لکھنؤ-کانپور ایکسپریس وے بنانے والی کمپنی ’پی این سی انفراٹیک‘ پر لگی 3 سال کی پابندی

Wait 5 sec.

لکھنؤ-کانپور ایکسپریس وے بنانے میں لاپروائی اور خراب معیار کا انکشاف ہونے کے بعد ’نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا‘ (این ایچ اے آئی) نے سخت قدم اٹھایا ہے۔اس نے ایکسپریس وے بنانے والی کمپنی ’پی این سی انفراٹیک‘ کو ’نان پرفارمر‘ قرار دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمپنی کو 3 سال کے لیے این ایچ اے آئی کے تمام پروجیکٹس سے ڈیبار (ممنوع) کر دیا گیا ہے۔ این ایچ اے آئی نے ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔کانپور-لکھنؤ ایکسپریس وے پر سفر اب محفوظ نہیں، 5 مقامات پر سڑک دھنس گئی، بولڈر بھی ٹوٹالکھنؤ-کانپور ایکسپریس کے افتتاح کے کچھ ہی وقت بعد سڑک کا ایک بڑا حصہ دھنس گیا تھا۔ کئی مقامات پر سڑک کی اوپری سطح کھسکنے اور بڑے بڑے شگاف پڑنے کی شکایتیں سامنے آ رہی تھیں۔ لاکھوں روپے کی لاگت سے بنائے گئے اس ہائی اسپیڈ کوریڈور کی ایسی حالت دیکھ کر سوال اٹھنے لگے تھے۔ ایسے میں این ایچ اے آئی نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی تھی۔ یہ کمیٹی ایکسپریس وے کی تعمیر میں استعمال کیے گئے مواد، ڈیزائن اور انجینئرنگ کی خامیوں کی جانچ کر رہی ہے۔اس سے قبل این ایچ اے آئی نے پی این سی انفراٹیک پر 2 فیصد جرمانہ عائد کرتے ہوئے اسے نان پرفارمر قرار دینے کی سفارش کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی لاپروائی کے سبب خود مختار انجینئر کمپنی ’تھیم انجینئرنگ سروسز‘ کو بھی ڈیبار کرنے کا نوٹس بھیجا گیا تھا۔ نگرانی اور تعمیر میں کوتاہی کے سبب پی این سی کے پروجیکٹ منیجر وویک گپتا، ریزیڈنٹ انجینئر یتیندر کمار اور خود مختار انجینئرز کی ٹیم کے لیڈر سریندر کمار کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان تینوں افسران پراین ایچ اے آئی، مورتھ اور این ایچ آئی ڈی سی ایل کے کسی بھی پروجیکٹ میں اگلے 2 سال تک کام کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ این ایچ اے آئی نے پروجیکٹ ڈائریکٹر نکُل پرکاش ورما کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جبکہ سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر سوربھ چورسیا کو وجہ بتاؤ نوٹس (چارج شیٹ) بھیجا تھا۔