نئی دہلی(14 ستمبر 2026): عالمی سرمایہ کاروں نے بھارت کی اسٹاک مارکیٹ سے تقریباً 25 ارب ڈالر نکال لیے ہیں۔عالمی معاشی جریدے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق عالمی سرمایہ کاروں نے بھارت کی اسٹاک مارکیٹ سے تقریباً پچیس ارب ڈالر نکال لیے ہیں، جس کے بعد بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری صفر ہو کر رہ گئی ہے۔کچھ عرصہ قبل تک دنیا کی سب سے پرکشش سرمایہ کاری منڈیوں میں شمار ہونے والا بھارت اب بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق ایشیا کی سب سے کم پسندیدہ مارکیٹ بن چکا ہے۔غیر ملکی سرمایہ کاری کے اس بڑے انخلا کے نتیجے میں بھارتی اسٹاکس میں غیر ملکی ملکیت پچھلے سترہ سال کی پست ترین سطح پر آ گئی ہے۔سرمایہ کاری کے انخلا کے ساتھ ساتھ بھارتی کرنسی کو بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں بھارتی روپیہ اپنی قدر مسلسل کھو رہا ہے اور یہ نئی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔ایشیائی کرنسیوں میں اس وقت بھارتی روپیہ سب سے زیادہ دباؤ کا شکار اور بدترین کارکردگی دکھانے والی کرنسی قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ملکی مالیاتی مارکیٹ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔