نئی دہلی: کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور پارٹی کے قومی خزانچی اجے ماکن نے دہلی یونیورسٹی میں طلبہ کے لیے ہاسٹل کی کمی کو لے کر مرکزی حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی یونیورسٹی کو سات سال قبل ’انسٹی ٹیوشن آف ایمیننس‘ کا درجہ دیے جانے کے باوجود طلبہ کو آج بھی رہائش کے لیے پی جی یا کرائے کے کمروں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔اجے ماکن نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ 18 ستمبر کو دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (ڈوسو) کے انتخابات ہونے ہیں اور طلبہ کو درپیش اہم مسائل میں ہاسٹل کی کمی بھی شامل ہے، لیکن اس سلسلے میں حکومت کے پاس اب تک واضح جواب نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ 4 ستمبر 2019 کو اس وقت کی وزارتِ انسانی وسائل کی ترقی نے ایک حکم جاری کرکے دہلی یونیورسٹی کو ’انسٹی ٹیوشن آف ایمیننس‘ قرار دیا تھا۔ وزارت کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اس درجہ کے تحت سرکاری اداروں کو ایک ہزار کروڑ روپے تک کی اضافی مالی مدد فراہم کی جانی تھی۔ماکن کے مطابق اسی منصوبے کے تحت شمالی دہلی کے مکھرجی نگر واقع ڈھاکہ کمپلیکس میں طلبہ کے لیے ایک ہاسٹل تعمیر کیا جانا تھا۔ نیشنل بلڈنگز کنسٹرکشن کارپوریشن (این بی سی سی) نے 10 مئی 2023 کو اس منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کیا تھا۔ اس کی تعمیراتی لاگت تقریباً 318 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی، جبکہ تعمیر مکمل کرنے کے لیے 20 ماہ کی مدت طے کی گئی تھی۔ اس حساب سے ہاسٹل مارچ 2025 تک مکمل ہو جانا چاہیے تھا۔اجے ماکن نے کہا کہ مقررہ مدت گزرنے کے تقریباً 6 ماہ بعد، ستمبر 2025 میں اس منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ ان کے مطابق 14 ستمبر 2026 تک دہلی یونیورسٹی کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہاسٹل کی فہرست میں بھی ڈھاکہ کمپلیکس کا ہاسٹل شامل نہیں ہے، کیونکہ یہ منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔انہوں نے یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر طلبہ کو دستیاب معلومات کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا۔ ماکن نے کہا کہ ویب سائٹ پر مختلف کالجوں اور ان کے ہاسٹلوں کے بارے میں معلومات موجود ہیں، لیکن کسی کالج میں داخل طلبہ کی تعداد اور اسی کالج میں دستیاب ہاسٹل نشستوں کو ایک ہی جدول میں آمنے سامنے پیش نہیں کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مجموعی ہاسٹل نشستوں کی تعداد بھی واضح طور پر درج نہیں کی گئی۔کانگریس رہنما نے کہا کہ اس صورت حال میں داخلہ لینے والا طالب علم پہلے ہی دن یہ معلوم نہیں کر پاتا کہ اس کے کالج میں اس جیسے کتنے طلبہ کے لیے ہاسٹل کی کتنی نشستیں دستیاب ہیں۔ نتیجتاً اسے پی جی یا کرائے کے کمرے کی تلاش پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ماکن نے تعلیم کے وزیر سے مطالبہ کیا کہ 18 ستمبر کو ہونے والے طلبہ یونین انتخابات سے قبل دہلی یونیورسٹی کے تمام کالجوں کے داخلوں اور ہاسٹل نشستوں کی کالج وار تفصیلات پر مشتمل جدول عوام کے سامنے لائی جائے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ڈھاکہ کمپلیکس ہاسٹل میں پہلے طالب علم کے منتقل ہونے کی حتمی تاریخ بھی بتانے کا مطالبہ کیا۔دہلی کی 81 فیصد آبادی درمیانی یا اس سے بدتر آلودگی کی زد میں: اجے ماکنInstitute of Eminence सात साल पहले बना था, पर Hostel की संख्या आज तक वही; Hostel की गणना आज तक नहीं18 सितंबर को दिल्ली विश्वविद्यालय में DUSU का चुनाव है, और जिस सवाल पर छात्र सबसे ज़्यादा परेशान हैं, सरकार के पास आज भी उसका जवाब नहीं है।4 सितंबर 2019 को मानव संसाधन विकास…— Ajay Maken (@ajaymaken) September 14, 2026انہوں نے کہا کہ جو ہاسٹل مارچ 2025 میں مکمل ہوجانا چاہیے تھا، اس کا سنگِ بنیاد ہی چھ ماہ بعد رکھا گیا اور اب بھی وہ یونیورسٹی کی سرکاری ہاسٹل فہرست میں شامل نہیں ہے۔ ان کے بقول محض یہ کہنا کہ ہاسٹل ’بن رہا ہے‘ کافی نہیں، بلکہ حکومت کو تکمیل اور طلبہ کے استعمال کے لیے دستیاب ہونے کی واضح تاریخ بتانی چاہیے۔ماکن نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر کہا کہ سات سال سے ’بہترین ادارے‘ کا درجہ کاغذ پر موجود ہے، لیکن طلبہ آج بھی باہر کرائے کا کمرہ تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حقیقی معنوں میں بہترین ادارہ وہ نہیں جس کے پاس صرف اعزاز ہو، بلکہ وہ ہے جس کے پاس اپنے طلبہ کے لیے چھت بھی ہو۔