اگست میں خوردہ مہنگائی بڑھ کر 4.8 فیصد پہنچی، آلو-پیاز اور چینی کی بڑھی ہوئی قیمتوں نے بنایا دباؤ!

Wait 5 sec.

حکومت کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں ہندوستان کی خوردہ مہنگائی کی شرح جولائی کی 4.45 فیصد سے بڑھ کر 4.82 فیصد ہو گئی ہے۔ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں اور صارفین کی ٹوکری کے دیگر اہم اجزا نے معیشت پر دباؤ ڈالا ہے۔ تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال کی پہلی ششماہی میں مہنگائی کی شرح کافی حد تک کم رہنے کے بعد اب قیمتوں کا دباؤ بڑھنے لگا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے رائٹرز پول میں اس ماہ کے لیے خوردہ مہنگائی کی شرح 4.80 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا تھا، جس میں اندازے 4.40 فیصد سے 5.05 فیصد کے درمیان تھے۔جولائی کے یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں آئے ہیں جب جون میں خوردہ مہنگائی کی شرح ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے 4 فیصد کی درمیانی مدت کے ہدف سے اوپر چلی گئی تھی۔ جون میں یہ مئی کی 3.93 فیصد سے بڑھ کر 4.38 فیصد ہو گئی تھی۔ اگست کی مہنگائی کی شرح اس وقت کے بعد سے سب سے زیادہ ہے جب ہندوستان نے اس سال کے آغاز میں نئے بنیادی سال اور تازہ ترین صارفین کی ٹوکری کے ساتھ اپنی نظرثانی شدہ سی پی آئی سیریز اپنائی ہے۔ آر بی آئی کو مالی سال 2027 کے لیے مجموعی خوردہ مہنگائی کی شرح کو 5 فیصد پر برقرار رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ اگست میں چینی کی قیمتیں ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئیں، جس کا اثر اس ماہ کی مہنگائی کی شرح پر پڑنے کا امکان ہے۔ گھریلو قیمتوں کو کم کرنے کے لیے چینی کی برآمد پر ہندوستان کی پابندی، جو مئی میں شروع ہوئی تھی، ستمبر کے آخر تک نافذ رہے گی۔ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں مہنگائی کی شرح بڑھانے کی اہم وجہ بنی ہوئی ہیں۔ خوردہ غذائی مہنگائی کی شرح جولائی کی 5.52 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 5.95 فیصد ہو گئی۔ اس میں دیہی غذائی مہنگائی کی شرح 5.64 فیصد اور شہری غذائی مہنگائی کی شرح 6.13 فیصد رہی۔ اگست میں پیاز کی مہنگائی کی شرح جولائی کی 22.54 فیصد سے دوگنی سے بھی زیادہ ہو کر 48.27 فیصد ہو گئی، جبکہ لہسن کی مہنگائی کی شرح 35.36 فیصد سے بڑھ کر 43.60 فیصد ہو گئی۔ تاہم، ادرک کی قیمتوں میں کچھ نرمی دیکھی گئی اور اس کی مہنگائی کی شرح جولائی کی 83.57 فیصد سے گھٹ کر اگست میں 73.82 فیصد ہو گئی۔دوسری جانب کئی سبزیوں کی قیمتوں میں گراوٹ جاری رہی، جس سے کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں ہونے والے وسیع اضافے کا اثر کچھ کم ہوا۔ اگست میں ٹماٹر کی قیمتوں میں 31.09 فیصد کی کمی آئی، جبکہ جولائی میں یہ کمی 4.60 فیصد تھی۔ وہیں آلو کی مہنگائی کی شرح منفی 13.14 فیصد رہی، جو جولائی کے منفی 16.56 فیصد سے کم ہے۔ بھنڈی کی قیمتوں میں 5.41 فیصد کی کمی آئی، جو جولائی میں آئی 5.50 فیصد کی کمی کے تقریباً برابر ہی ہے۔واضح رہے کہ مہنگائی کا رجحان جنوب مغربی مانسون کی پیش رفت اور غذائی پیداوار کے اندازوں پر کافی حد تک منحصر ہوگا۔ جہاں معمول کے مطابق مانسون سے فصل کی پیداوار بہتر ہو سکتی ہے اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں قابو میں رہ سکتی ہیں، وہیں غیر مساوی بارش یا موسم میں خرابی سے اہم زرعی مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ ہندوستان کے لیے عالمی توانائی کی قیمتیں بھی ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہیں، کیونکہ ملک درآمد شدہ خام تیل پر منحصر ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے گھریلو ایندھن اور نقل و حمل کی لاگت بڑھ سکتی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ سکتا ہے اور روپے پر دباؤ پڑ سکتا ہے، جس سے درآمد شدہ مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ پیر کو جاری کیے گئے مہنگائی کے اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور بعد میں ان میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔اس درمیان خام تیل کی قیمتوں اور سپلائی سے متعلق دباؤ میں کمی آنے کی وجہ سے آر بی آئی نے مالی سال 2027 کے لیے مہنگائی کا اندازہ 5.1 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کر دیا۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے 5 اگست کی میٹنگ میں مالی سال 2027 کے لیے مہنگائی کا اندازہ جون میں لگائے گئے 5.1 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کر دیا۔ اس کی وجہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نرمی اور سپلائی سے متعلق دباؤ میں کمی آنا ہے۔مرکزی بینک نے سہ ماہی مہنگائی کے اندازوں میں بھی تبدیلی کی۔ پہلی سہ ماہی (کوارٹر 1) کے لیے سی پی آئی مہنگائی کا اندازہ پہلے کے 4.2 فیصد سے گھٹا کر 4.1 فیصد کر دیا گیا، جبکہ دوسری سہ ماہی (کوارٹر 2) کے لیے اندازہ 5.1 فیصد سے گھٹا کر 4.7 فیصد کر دیا گیا۔ تیسری سہ ماہی (کوارٹر 3) کا اندازہ 5.9 فیصد پر برقرار رکھا گیا، جبکہ چوتھی سہ ماہی (کوارٹر 4) کے لیے اندازہ 5.4 فیصد سے معمولی بڑھا کر 5.5 فیصد کر دیا گیا۔ آر بی آئی کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے منظرنامے سے متعلق خطرات متوازن بنے ہوئے ہیں اور اسے امید ہے کہ مستقبل قریب میں مجموعی مہنگائی بڑھے گی، تیسری سہ ماہی میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچے گی اور اس کے بعد کم ہو جائے گی۔ مرکزی بینک نے مالی سال 2027 کے لیے بنیادی مہنگائی کا اندازہ بھی پہلے کے 4.7 فیصد سے گھٹا کر 4.3 فیصد کر دیا۔