’ایران اورعمان بحیثیت دو ساحلی ریاست لیکن باہمی طور پر ایک فیصلہ کرتے ہیں‘

Wait 5 sec.

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے مستقبل کو مدنظر رکھ کر کئےگئےاقدامات کو سوالیہ نشان نہیں بنانا چاہیے۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور عمان بحیثیت دو ساحلی ریاست ہیں تاہم باہمی طور پر ایک فیصلہ کرتے ہیں ایران اور عمان سمندری راستوں کے حوالے سے آپس میں اتفاق کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ محفوظ بحری جہازرانی کے راستے پر اتفاق دونوں ملکوں کی حاکمیت اور خودمختاری کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے تمام پہلوؤں پر کئی ہفتوں تک دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوئے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مستقل ہمسایہ ممالک ساتھ بیٹھیں اور بات کریں۔ان کا کہنا تھا کہ بیرونی تخریب کار عناصر کی مداخلت سے پاک محفوظ خطہ کیسے قائم کیا جا سکتا ہے یہ نہایت موزوں موقع تھا مجھے نہیں لگتا کوئی بھی ذمہ دار فریق یہ قبول کرے گا کہ یہ موقع ضائع کیا جائے۔اجلاس ملتویعمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدوں پر بات چیت کے لیے خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان عمان میں آج ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے بتایا کہ اجلاس تہران اور مسقط کے مشترکہ فیصلے کے تحت خطے کے بعض ممالک کی درخواست پر ملتوی کردیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا تھا کہ خلیجی ممالک ایران سے ملاقات کریں تو انہیں اعتراض نہیں، یہ خلیجی ممالک کا اپنا فیصلہ ہے۔امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران جنگ رواں سال ختم ہوجائے گی، ممکن ہے ایران جنگ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوجائے۔