”مجھے بیٹے کی قبر میں ہی دفن کرنا“ دلبرداشتہ ماں نے بھی زندگی کا خاتمہ کرلیا

Wait 5 sec.

حیدرآباد: بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے پرکاشم ضلع میں دلبرداشتہ خاتون نے اپنے 11 سالہ بیٹے کی مشتبہ موت کے بعد انصاف کے لیے احتجاج کیا تھا۔ تاہم اسپتال انتظامیہ کے توہین آمیز رویے سے دلبرداشتہ ہو کر خاتون نے زندگی کا خاتمہ کرلیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق خودکشی سے پہلے بنائی گئی اپنی ویڈیو میں خاتون نے کہا تھا کہ”میرے بچے کی موت کے ذمہ دار اسپتال کے منتظمین ہیں جب میں انصاف کے لیے احتجاج کر رہی تھی تو انہوں نے مجھے گالیاں دیں۔بیٹے کی موت سے دلبرداشتہ خاتون نے کہا کہ میں نہیں چاہتی کہ کسی اور بچے یا ماں کو ایسی تکلیف سے گزرنا پڑے، ان توہین آمیز باتوں کو برداشت نہ کر پانے کی وجہ سے میں مرنا چاہتی ہوں۔ کم از کم اب میرے بچے کو انصاف ملنا چاہیے۔رپورٹس کے مطابق خاتون نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ جہاں میرے بچے کو دفن کیا گیا ہے وہیں مجھے بھی دفن کرنا۔مذکورہ خاتون نے 11 سالہ بیٹے سید توفیق کو امتحان کی تیاری کے لیے گزشتہ سال سنگارایاکونڈہ منڈل کے مولگنٹاپاڈو میں واقع سری چیتنیا نوودیا کوچنگ سینٹر میں داخل کرایا تھا۔14 فروری 2026 کو توفیق اسپتال کے بیت الخلا میں مشتبہ حالات میں مردہ پایا گیا۔ والدین اور دیگر اہلِ خانہ نے الزام لگایا کہ بچے کی موت کے ذمہ دار اسپتال کے منتظمین ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے بچے کی لاش کے ساتھ ضلع کلکٹریٹ کے سامنے احتجاج بھی کیا۔ اس کے بعد ضلع کلکٹر نے تین رکنی کمیٹی قائم کی۔کینیڈا: بھارتی خاتون ’باربی کیو‘ بنانے پر کرایہ دار سے لڑ پڑی، ویڈیو وائرلچار دن قبل اسپتال کے منتظمین نے مولابی کے خلاف پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔ مولابی کا کہنا تھا کہ اپنے بچے کو کھونے کے باوجود اسپتال کے منتظمین انہیں گالیاں دے رہے ہیں۔ اس بات سے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہو کر انہوں نے جمعرات کی دوپہر ہاسٹل کے سامنے ہی زہریلی دواپی کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔