کویت: بینکوں کا غیر ملکیوں سے متعلق اہم فیصلہ

Wait 5 sec.

کویت سٹی: کویت کے مقامی بینکوں نے ملازمین کے روزگار کے تحفظ کے منصوبوں اور تارکینِ وطن کے معاہدے ختم ہونے کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر غیر ملکیوں کے لیے قرضے دینے کے معیار کو سخت کرنا شروع کر دیا ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ اقدام تارکینِ وطن کو قرضوں کی کلی فراہمی معطل کرنے کے مترادف نہیں ہے، بلکہ بینک اب مستحکم روزگار، بہتر تنخواہوں اور کافی ضمانتوں کے حامل صارفین کو انتہائی احتیاط اور چھان بین کے بعد قرضے جاری کر رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق بینک اب بھی ان غیر ملکیوں کو قرض دینے کے لیے تیار ہیں جن کے پیشے نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر، انجینئرز، ہیلتھ کیئر پروفیشنلز، ٹیکنیشنز، ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے وابستہ ملازمین، اور ایسے اساتذہ شامل ہیں جن کی خصوصیات کو درمیانی مدت میں کویتائزیشن کے خطرے سے دوچار نہیں سمجھا جا رہا۔ملازمت کا طویل عرصہ اور کسی نامور ادارے سے وابستگی کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ جن ملازمین کی سروس تقریباً 10 سال یا اس سے زیادہ ہے، انہیں کم خطرہ والا صارف سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان کے پاس گریجوئٹی کی بڑی رقم جمع ہوتی ہے۔کویت: اقامے پاسپورٹ پر منتقل کرنے کے لیے 3 ماہ کی مہلتحال ہی میں بھرتی ہونے والے ملازمین اور کم تعلیمی قابلیت رکھنے والے افراد کو سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہے، اور ان کے لیے قرض کی حد بھی کم رکھی گئی ہے۔