بوسٹن: امریکی فیڈرل جج نے امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے اس متنازعہ حکم کو نافذ ہونے سے روک دیا ہے جس کے تحت غیر ملکی طلباء اور صحافیوں کے امریکا میں قیام کی مدت کو محدود کیا جانا تھا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق بوسٹن کے ضلعی جج نے ٹریڈ یونینز اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے وکلاء کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا۔رپورٹس کے مطابق یہ حکم نامہ اس نئے قانون کے نفاذ سے محض ایک روز قبل جاری کیا گیا، جو وزارتِ داخلہ کی جانب سے منگل کے روز سے نافذ العمل ہونا تھا۔فیصلہ سناتے ہوئے جج نے وزارتِ داخلہ کے اس مؤقف کو کمزور قرار دیا جس میں قومی سلامتی اور ویزا فراڈ کی روک تھام کو اس پالیسی کی بنیاد بنایا گیا تھا۔جج نے نشاندہی کی کہ حکومتی اداروں نے اس پالیسی کے ممکنہ منفی اثرات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور نہ ہی اس کے متبادل کم نقصان دہ راستوں کا جائزہ لیا۔’جو ملک اے آئی میں آگے ہوگا، دنیا میں وہی کامیاب ہو گا‘فی الحال عدالت کا یہ حکم سامنے آنے کے بعد امریکا میں موجود لاکھوں غیر ملکی طلباء اور صحافیوں کو عارضی طور پر بڑی راحت مل گئی ہے، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت تک اس نئے حکم نامے پر ملک بھر میں عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔