مغربی بنگال میں آئندہ 6 اکتوبر کو 2 اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخاب ہونا ہے۔ اس سے ٹھیک پہلے الیکشن کمیشن نے ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام کو فریز کرنے کا اعلان کر سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ صرف نام ہی نہیں، ترنمول کانگریس کا انتخابی نشان بھی فریز کر دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ہی گروپ اپنی اپنی طرف سے پارٹی کے لیے نیا نام اور انتخابی نشان بھیجیں تاکہ آگے کی کارروائی ہو۔ جواب میں سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے گزشتہ شب اپنی پسند کے 3 نام اور 3 انتخابی نشان بھیج دیے تھے، اور آج صبح رتبرت بنرجی گروپ نے بھی اپنی طرف سے متبادل ناموں اور انتخابی نشانات کی لسٹ الیکشن کمیشن کو بھیج دی۔’ووٹ چوری، حکومت چوری، اب پارٹی چوری‘، ترنمول کا نام اور انتخابی نشان منجمد کیے جانے پر راہل گاندھی کا تلخ تبصرہمیڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ رتبرت بنرجی گروپ نے اپنے متبادل میں جو 3 نام دیے ہیں، ان میں ’ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس‘ اور ’نیشنلسٹ ترنمول کانگریس‘ جیسے نام شامل ہیں۔ ایک نام ’مغربی بنگال ترنمول کانگریس‘ بتایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی گروپ کی طرف سے 3 انتخابی نشانات کے متبادل بھی پیش کیے گئے ہیں۔ ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ نے بتایا کہ باغی گروپ نے ’بلیک بورڈ‘، ’لفافہ‘ اور ’ٹارچ‘ کو اپنے انتخابی نشان کی شکل میں پیش کیا ہے۔ اب الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کون سا نام اور انتخابی نشان فراہم کرتا ہے۔اس سے قبل ترنمول کانگریس کی بانی ممتا بنرجی نے بھی الیکشن کمیشن کے عبوری حکومت کے جواب میں اپنی پسند کے 3 نام اور انتخابی نشانات سے متعلق جانکاری الیکشن کمیشن کو بھیج دی۔ حالانکہ انھوں نے الیکشن کمیشن کے رویہ پر اپنی سخت ناراضگی کا بھی اظہار کیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ممتا بنرجی نے اپنا جواب الیکشن کمیشن کی طرف سے عبوری حکم سامنے آنے کے کچھ ہی دیر بعد، جمعرات کی شب 11.36 بجے بھیج دیا۔ ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے اپنے جواب میں نام اور انتخابی نشان فریز کرنے سے متعلق فیصلہ پر سخت اعتراض ظاہر کیا اور کہا کہ ضمنی انتخاب سے قبل پارٹی کے اصل نام اور انتخابی نشان پر اس طرح کی پابندی لگانا نامناسب ہے۔’گیانیش کمار نے پی ایم مودی کو یومِ پیدائش کا تحفہ پیش کیا‘، ٹی ایم سی کا انتخابی نشان منجمد کیے جانے پر کانگریس کا حملہبہرحال، دونوں گروپوں کی طرف سے ناموں اور انتخابی نشانات کے 3-3 متبادل پیش کیے جانے کے بعد اب الیکشن کمیشن آج دونوں ہی گروپوں کے لیے نئے نام اور انتخابی نشان پر فیصلہ سنا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ جلد ہی سامنے آنے کی امید ہے، کیونکہ 6 اکتوبر کو رجی نگر اور نندی گرام اسمبلی سیٹ پر ضمنی انتخاب ہونا ہے۔