یو پی آئی فیس پر راہل گاندھی نے بنایا وزیر اعظم مودی کو نشانہ، کہا- ’امریکی دباؤ کے سامنے پھر خودسپردگی‘

Wait 5 sec.

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے یو پی آئی (یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس) لین دین پر فیس کے معاملے کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دو ہزار روپے سے زیادہ کے تجارتی یو پی آئی لین دین پر فیس عائد کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے اور امریکی دباؤ کے سامنے ایک بار پھر سمجھوتہ کر رہی ہے۔راہل گاندھی نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ حکومت کا یہ قدم یو پی آئی کے موجودہ زیرو ایم ڈی آر (مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ) نظام کو تبدیل کرنے کی سمت میں اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق دو ہزار روپے سے زیادہ کے لین دین تعداد کے لحاظ سے تقریباً پانچ فیصد ہیں، لیکن یو پی آئی کے مجموعی لین دین کی مالیت میں ان کا حصہ تقریباً 65 فیصد ہے۔کانگریس رہنما نے حکومت کے اس مؤقف پر بھی سوال اٹھایا کہ دو ہزار روپے تک کے یو پی آئی لین دین پر صارف سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تاجر پر کوئی فیس عائد ہوتی ہے تو اس کا بوجھ بالآخر صارفین پر ہی پڑے گا، کیونکہ تاجر اضافی لاگت کو اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں شامل کر سکتے ہیں۔راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ امریکی ادائیگی کمپنیاں طویل عرصے سے ہندوستان کی زیرو ایم ڈی آر پالیسی کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت اب اسی سمت میں پالیسی تبدیل کرنے کا راستہ کھول رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے معاملے کی طرح ’سمجھوتہ کر چکے‘ وزیر اعظم ایک بار پھر امریکی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم کر رہے ہیں۔मोदी सरकार ने चुपचाप UPI पर फ़ीस लगाने का रास्ता खोल दिया है।अब ₹2,000 से ऊपर के merchant UPI लेन-देन पर MDR लगाया जा सकता है। इन ट्रांजैक्शंस की संख्या भले ही सिर्फ़ 5% हो, लेकिन UPI के कुल transaction value का करीब 65% इन्हीं में है।सरकार कहती है कि ग्राहक से कोई फ़ीस नहीं…— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) September 15, 2026اس معاملے پر کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر کہا کہ کانگریس نے 6 اگست 2026 کو ہی خبردار کیا تھا کہ پارلیمنٹ سے منظور کرائے گئے نئے قوانین کے ذریعے یو پی آئی پر فیس عائد کرنے کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔رمیش کے مطابق، ترمیم شدہ پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹم ایکٹ، 2007 کے تحت جاری تازہ نوٹیفکیشن میں بینکوں اور ادائیگی نظام فراہم کرنے والوں کو دو ہزار روپے سے کم کے یو پی آئی لین دین پر فیس وصول کرنے سے روکا گیا ہے، لیکن دو ہزار روپے سے زیادہ کے لین دین کے لیے ایسی واضح پابندی موجود نہیں ہے۔जैसा कि हमने 6 अगस्त 2026 को चेतावनी दी थी, जिस पर माननीय वित्त मंत्री ने खुद जवाब देना उचित समझा था-मोदी सरकार अब संसद से जबरन पारित कराए गए नए कानूनों का इस्तेमाल करके UPI पर चार्ज लगाने की प्रक्रिया शुरू कर रही है।संशोधित Payment and Settlement Systems Act, 2007 के तहत अभी… https://t.co/XtrcGEAaVb— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) September 15, 2026انہوں نے کہا کہ اس سے یو پی آئی لین دین پر فیس عائد کرنے کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں حکومت اسی طرح کے کسی اور نوٹیفکیشن کے ذریعے دو ہزار روپے کی حد میں بھی تبدیلی کر سکتی ہے، کیونکہ قانون میں اب کوئی مستقل ضمانت باقی نہیں رہ گئی۔جے رام رمیش نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں روزمرہ کے شخص سے شخص (پی ٹو پی) لین دین پر بھی فیس عائد کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر شفافیت اور دیانت داری کی کمی کا الزام لگاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا یہ سب کچھ امریکی کمپنیوں کے لیے ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام کو کھولنے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔