برطانیہ میں بڑی آئینی ہلچل

Wait 5 sec.

لندن : اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے رہنماؤں کا مشترکہ خود مختاری معاہدہ سامنے آگیا، جس کے بعد برطانیہ میں بڑی آئینی ہلچل مچ گئی۔تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں ایک بڑی سیاسی و آئینی ہلچل کے دوران اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے قوم پرست رہنماؤں نے خودمختاری کی مشترکہ جدوجہد کے لیے تاریخی "کارڈف معاہدے” پر دستخط کر دیے ہیں۔گلاسگو میں جاری پیشرفت کے تحت تینوں خطوں کے رہنماؤں نے برطانوی پارلیمنٹ (ویسٹ منسٹر) سے آئینی تبدیلی اور خودمختاری کے مطالبات فوری تسلیم کرنے پر زور دیا ہے۔اسکاٹش فرسٹ منسٹر جان سوئنی نے موجودہ پارلیمانی مدت کے دوران ہی آزادی کے نئے ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔سن فین کی صدر میری لو میکڈونلڈ نے شمالی آئرلینڈ اور جمہوریہ آئرلینڈ کے اتحاد (آئرش اتحاد) پر فوری ریفرنڈم کا مطالبہ کیا ہے۔قوم پرست رہنماؤں نے خودمختاری اور آئینی تبدیلی کے حصول کے لیے آئندہ بھی مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔برطانوی حکومت نے نئے ریفرنڈم کے مطالبے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی تنازعات کے بجائے اس وقت مہنگائی میں کمی اور معیشت کی بہتری ترجیح ہونی چاہیے۔کنزرویٹو پارٹی نے کارڈف اجلاس پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ قوم پرست رہنما عوام کی توجہ تعلیم اور معیشت جیسے بنیادی مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔