لکھنؤ کے ایکو گارڈن میں گزشتہ 17 دنوں سے اساتذہ کی بھرتی کے امیدوار دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ معاملہ ہے68500 اساتذہ کی بھرتی میں ریزرویشن سے متعلق تنازعہ کا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر مظاہرین امیدواروں نے خون کا عطیہ دیا اور اسی خون سے وزیر کے اعظم کے نام خط لکھا۔ ان خطوں میں وزیر اعظم مودی سے پورے معاملے میں مداخلت کرنے اور انصاف دلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ امیدواروں نے وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ ریاستی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے نام بھی خط بھیجے ہیں۔लखनऊ : 68500 शिक्षक भर्ती आरक्षण मामले को लेकर धरना 17वें दिन भी जारी ईको गार्डन में अभ्यर्थियों ने खून से लिखे पत्र प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी के जन्मदिन पर अभ्यर्थियों ने दी बधाई प्रधानमंत्री से मामले में हस्तक्षेप कर न्याय दिलाने की मांग चिकित्सकीय टीम की मौजूदगी में… pic.twitter.com/TDT6P0lvlB— India News UP/UK (@IndiaNewsUP_UK) September 17, 2026دراصل ان کا مطالبہ ہے کہ 68500 اساتذہ کی بھرتی میں ریزرویشن سے متعلق معاملے کو حل کیا جائے۔ امیدواروں کا دعویٰ ہے کہ ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کی جانب سے جو حکم دیا گیا ہے، اس پر عمل درآمد کرایا جائے۔ اسی مطالبے کو لے کر گزشتہ 17 دنوں سے دھرنا جاری ہے۔ بارش ہو، گرمی ہو یا پھر طویل انتظار... امیدواروں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں لیا جاتا، ان کی تحریک جاری رہے گی۔واضح رہے کہ آج وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ ہے۔ امیدواروں نے آج کے دن کو اپنی تحریک سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے وزیر اعظم کو سالگرہ کی مبارکباد دی، پھر طبی ٹیم کی موجودگی میں خون کا عطیہ دیا لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ اسی خون سے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام خط لکھا گیا۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ یہ کسی کو ڈرانے یا دباؤ بنانے کا طریقہ نہیں بلکہ اپنا مطالبہ حکومت تک پہنچانے کی علامت ہے۔خون سے لکھے گئے ان خطوط کے ذریعہ امیدواروں نے وزیر اعظم سے پورے معاملے میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کے حکم پر عمل درآمد کرایا جائے۔ ساتھ ہی او بی سی اور معذور امیدواروں کو انصاف دلانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ امیدواروں نے صرف وزیر اعظم کے نام خط نہیں لکھا۔ خون سے لکھے گئے خط وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ساتھ ریاستی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی بھیجے گئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ 68500 اساتذہ کی بھرتی کا معاملہ نیا نہیں ہے۔ اس بھرتی کے عمل کو لے کر پہلے بھی انتخاب، ریزرویشن اور امیدواروں کے حقوق سے متعلق تنازعات سامنے آتے رہے ہیں۔ اب موجودہ تحریک میں امیدوار ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کے حکم کو بنیاد بنا کر حکومت سے اس پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یعنی امیدواروں کی دلیل سیدھی ہے کہ جب کمیشن کا حکم ہے تو اس پر عمل کرایا جائے۔