’پیسہ اتراکھنڈ کا، کوئلہ چھتیس گڑھ کا اور فائدہ اڈانی کا‘، کانگریس نے پشکر سنگھ دھامی حکومت پر کیا حملہ

Wait 5 sec.

پشکر سنگھ دھامی حکومت نے یو جے وی این-ٹی ایچ ڈی سی کے مجوزہ پروجیکٹ کو کیوں ختم کیا؟84 ٹنڈر شرائط میں تبدیلی کیوں کی گئی؟کیا یہ ٹنڈر ایک شخص کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا تھا؟ایسی شرط کیوں رکھی گئی کہ پاور پلانٹ اتراکھنڈ کے باہر بھی لگایا جا سکتا ہے؟اڈانی پاور کو 25 سال تک ’پاور پرچیز ایگریمنٹ‘ کیوں دیا گیا؟’موڈانی ماڈل‘ کو کامیاب کرنے کے لیے اتنے اصول کیوں توڑے گئے؟یہ سوالات کانگریس کے سینئر لیڈر اور ترجمان پون کھیڑا نے آج کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں اٹھائے ہیں۔ انھوں نے اتراکھنڈ کی پشکر سنگھ دھامی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ اڈانی کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں، اس لیے یو جے وی این-ٹی ایچ ڈی سی سے متعلق مجوزہ پروجیکٹ کو ختم کر دیا گیا اور اڈانی پاور کو 25 سال تک کے لیے ’پاور پرچیز ایگریمنٹ‘ فراہم کر دیا گیا۔हमारा सवाल है ⦿ पुष्कर सिंह धामी सरकार ने UJVN-THDC के प्रस्तावित प्रोजेक्ट को क्यों खत्म किया?⦿ 84 टेंडर शर्तों में बदलाव क्यों किए गए?⦿ क्या यह टेंडर एक व्यक्ति को फायदा पहुंचाने के लिए प्लान की गई थी? ⦿ ऐसी शर्त क्यों रखी गई कि पावर प्लांट उत्तराखंड के बाहर भी… pic.twitter.com/DAA2avyqHk— Congress (@INCIndia) September 17, 2026میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’پشکر سیلنگ اتراکھنڈ (پشکر اتراکھنڈ کو فروخت کر رہے ہیں)، ہم ایسی بات کیوں کر رہے ہیں، وہ آپ کو سمجھ میں جلد آ جائے گا۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’ٹی-20 کرکٹ ٹیم کی طرح ہی بی جے پی کے پاس بھی ایک ’420 ٹیم‘ ہے۔ بی جے پی کی اس ٹیم نے 86 اصولوں میں سے 84 اصول تبدیل کر دیے۔ پھر ان بدلے ہوئے اصولوں کی بنیاد پر ٹنڈر کے عمل کو بدلا گیا اور کام اڈانی کو سونپ دیا گیا۔ یعنی ایک بار پھر سے ’گوتم شرنم گچھامی‘ ہو گیا۔‘‘'Pushkar Selling Uttarakhand'- हम ऐसी बात क्यों कर रहे हैं- वो आपको समझ आएगा • T-20 क्रिकेट टीम की तरह ही BJP के पास एक 420 टीम है• BJP की इस टीम ने 86 नियमों में से 84 नियम बदल दिए• फिर इन बदले नियमों के आधार पर टेंडर की प्रक्रिया को बदला गया और काम अडानी को सौंप दिया… pic.twitter.com/CBLSNJSE31— Congress (@INCIndia) September 17, 2026اس ٹنڈر سے متعلق تفصیل بیان کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’2024 میں وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کوئلہ وزیر کو ایک تجویز بھیجی کہ ہم جوائنٹ ونچر کے تحت 1320 میگا واٹ کا تھرمل پاور پلانٹ لگائیں گے۔ یہ جوائنٹ ونچر (یو جے وی این-ٹی ایچ ڈی سی) کا ہوگا، جو راؤنڈ دی کلاک کام کرے گا تاکہ ریاست میں بجلی سپلائی کم نہ ہو۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’’وزیر اعلیٰ دھامی نے حکومت ہند کے کوئلہ وزیر کو کوئلہ سپلائی کے لیے بھی خط لکھا۔ 6 ماہ بعد کوئلہ وزیر کی طرف سے اس پلانٹ کے لیے منظوری مل گئی۔ لیکن 16 جنوری 2025 کو اچانک اتراکھنڈ حکومت نے اس جوائنٹ ونچر کو رد کر دیا۔‘‘ انھوں نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ اس ونچر کو رد کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا کہ ونچر کم وقت پر کام پورا نہیں کر پائے گا، جبکہ جوائنٹ ونچر کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ہم کام پورا کر لیں گے۔2024 में मुख्यमंत्री पुष्कर सिंह धामी ने कोयला मंत्री को एक प्रपोजल भेजा कि हम जॉइंट वेंचर के तहत एक 1320 MW का थर्मल पावर प्लांट लगाएंगे • ये जॉइंट वेंचर (UJVN-THDC) का होगा, जो राउंड द क्लॉक काम करेगा, ताकि राज्य में बिजली सप्लाई कम न हो• CM धामी ने भारत सरकार के कोयला… pic.twitter.com/Neaw2I5ZjR— Congress (@INCIndia) September 17, 2026اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پون کھیڑا کہتے ہیں ’’3 فروری 2025 کو اتراکھنڈ حکومت نے ایک ٹنڈر نکالا۔ اسی دن اڈانی پاور نے چھتیس گڑھ میں کوربا ایکسپینشن کے لیے ماحولیاتی کلیئرنس کے لیے درخواست ڈال دی۔ اس کے بعد ٹنڈر نکالنے والی یو پی سی ایل ایک خط لکھتی ہے اور 86 شرطوں میں سے 84 شرطیں بدلنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ نتیجۂ کار 86 میں سے 84 شرطیں بدل دی گئیں۔‘‘ بدلی گئی کچھ شرطوں کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ’’1320 میگاواٹ بجلی ایک ہی بولی لگانے والی کی طرف سے آنی چاہیے۔ پلانٹ ملک کے کسی بھی گوشے میں ہو سکتا ہے، اس کا اتراکھنڈ میں ہونا لازمی نہیں ہے۔ شفٹنگ کا خرچ اتراکھنڈ کی عوام ادا کرے گی۔‘‘⦿ 3 फरवरी 2025 को उत्तराखंड सरकार ने एक टेंडर निकाला⦿ इसी दिन अडानी पावर ने छत्तीसगढ़ में कोरबा एक्सपेंशन के लिए Environmental Clearance की एप्लीकेशन डाल दी ⦿ जिसके बाद टेंडर निकालने वाली UPCL एक चिट्ठी लिखती है और 86 शर्तों में से 84 शर्तें बदलने की मांग करती है ⦿… pic.twitter.com/7dyi6JeEN1— Congress (@INCIndia) September 17, 2026پون کھیڑا نے جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی 420 ٹیم نے اپنے لوگوں کو میچ جتانے کے لیے ڈھنگ سے پچ تیار کی اور ٹنڈر کے کنسٹرکشن کی ٹائم لمٹ بھی بڑھا دی۔ یونٹ-1 کے لیے 42 ماہ کا وقت مقرر کیا گیا اور یونٹ-2 کے لیے 48 ماہ کا وقت مقرر ہوا۔ اس کے علاوہ ٹیرف اسٹرکچر میں فکسڈ چارج سیلنگ کو 70 فیصد سے بڑھا کر 75 فیصد کر دیا گیا۔ کانگریس لیڈر کے مطابق اس سے یہ گارنٹی ہو جاتی ہے کہ اڈانی پاور سے اتراکھنڈ بجلی لے یا نہ لے، 25 سال تک کمپنی کو پیسہ ملتا رہے گا۔BJP की 420 टीम ने अपने लोगों को मैच जिताने के लिए ढंग से पिच तैयार की और टेंडर के कंस्ट्रक्शन की टाइम लिमिट भी बढ़ा दी। • यूनिट-1 के लिए 42 महीने • यूनिट-2 के लिए 48 महीनेइसके अलावा, tariff structure में fixed charge ceiling को 70% से बढ़ाकर 75% कर दिया गया।इससे यह… pic.twitter.com/d7USJ4UFaf— Congress (@INCIndia) September 17, 2026اڈانی گروپ سے متعلق کانگریس ترجمان نے کہا کہ ’’چھتیس گڑھ میں اڈانی کی کمپنی ’پیلما کولیریز لمیٹڈ‘ کو 2022 میں ایم ڈی او بنایا گیا ہے۔ یعنی کوئلہ کانکنی سے لے کر پلانٹ اور اس کے پروڈکشن-ٹرانسپورٹیشن کا کام اڈانی کی کمپنی کرے گی اور بجلی بھی اڈانی ہی فروخت کریں گے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’بجلی اتراکھنڈ کی عوام کے پیسے سے تیار ہوگی، لیکن اس کا پورا پروجیکٹ چھتیس گڑھ میں چلے گا اور اس میں کابینہ منظوری بھی آئی ہے کہ یہ پروجیکٹ 25 سال تک اڈانی کے پاس رہے گا۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’’1.66 لاکھ کروڑ روپے کا ’پاور پرچیز ایگریمنٹ‘ 25 اگست 2026 سے 5.74 فی یونٹ کی شرح سے شروع ہو گیا ہے۔ یعنی پیسہ اتراکھنڈ کا، کوئلہ چھتیس گڑھ کا اور فائدہ اڈانی کا۔‘‘छत्तीसगढ़ में अडानी की कंपनी 'Pelma Collieries Limited' को 2022 में MDO बनाया गया है। यानी- कोयले की माइनिंग से लेकर प्लांट और उसके उत्पादन-ट्रांसपोर्टेशन का काम अडानी की कंपनी करेगी और बिजली भी अडानी ही बेचेंगे⦿ बिजली उत्तराखंड की जनता के पैसे से तैयार होगी, लेकिन उसका पूरा… pic.twitter.com/I7Znhobqym— Congress (@INCIndia) September 17, 2026