آبادیوں میں اچانک زہریلے سانپوں کی بھرمار، خوف و ہراس

Wait 5 sec.

دہرادون : موسم برسات میں کچھ سانپوں کا نظر آنا معمول کی بات ہوسکتی ہے لیکن کسی علاقے سے سیکڑوں خطرناک سانپ برآمد ہونا خوف پیدا ہونے کی یقینی اور بڑی وجہ ہے۔کچھ ایسا ہی معاملہ بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرادون کے مضافاتی علاقوں میں پیش آیا جہاں چند ماہ کے دوران سیکڑوں سانپ برآمد ہوئے جس نے علاقہ مکینوں کو شدید خوف میں مبتلا کر دیا۔دہرادون کے محکمہ جنگلات کے مطابق رواں سال جنوری سے 13 ستمبر تک دہرادون فارسٹ ڈویژن میں 542 سانپوں کو ریسکیو کیا گیا، جن میں 112 زہریلے سانپ شامل تھے۔اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 8 ماہ کے دوران ریسکیو کیے گئے سانپوں کی تعداد اوسطاً روزانہ دو سے زیادہ ہے، مجموعی طور پر ریسکیو کیے گئے 542 سانپوں میں تقریباً 21 فیصد زہریلے تھے۔ان سانپوں میں 62 کوبرا نسل کے سانپ شامل تھے، اس کے علاوہ 41 کامن کریٹ، 6 سندھ کریٹ، 2 رسل وائپر اور ایک کنگ کوبرا بھی ریسکیو کیا گیا۔محکمہ جنگلات کے مطابق دہرادون فارسٹ ڈویژن میں سب سے زیادہ ریٹ اسنیکس ریسکیو کیے گئے، جن کی تعداد 230 رہی، جو مجموعی تعداد کا تقریباً 42 فیصد ہے۔اس کے علاوہ 109 واٹر اسنیکس، 59 ٹرنکٹ اسنیکس، 18 بف اسٹرائپڈ کیل بیک، 8 اژدہے اور 4 کیٹ اسنیکس بھی ریسکیو کیے گئے۔حکام کے مطابق برسات کے موسم میں سانپوں کے رہنے کے بل اور چھپنے کی جگہیں پانی سے بھر جاتی ہیں، جس کے باعث وہ محفوظ مقامات کی تلاش میں باہر نکلتے ہیں اور بعض اوقات رہائشی علاقوں کا رخ کرلیتے ہیں۔اسی دوران سانپوں کی خوراک، خصوصاً چوہے اور مینڈک بھی اپنے ٹھکانوں سے باہر نکل آتے ہیں اور خوراک کی تلاش میں آبادیوں کے قریب پہنچ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں سانپوں کی رہائشی علاقوں میں آمد بڑھ جاتی ہے۔ایک ہی گھر سے 100 انتہائی زہریلے سانپ برآمد، خطرناک ویڈیو