ایران کی جوہری صنعت فوجی حملے سے تباہ نہیں کی جا سکتی، کمالوَندی کی جوہری ایجنسی کانفرنس میں تقریر

Wait 5 sec.

تہران: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی 70 ویں جنرل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بہروز کمالوَندی نے کہا کہ ایران کا ’جوہری علم اور صنعت‘ گہری بنیادیں رکھتی ہے اور اسے فوجی حملوں، تخریب کاری یا قتل و غارت کے ذریعے تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ایرانی جوہری پروگرام کے ترجمان بہروز کمال وَندی نے زور دے کر کہا کہ ایران دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنے جائز حقوق کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے اپنی پُرامن جوہری سرگرمیاں جاری رکھے گا۔کمالوندی نے کہا عالمی ایٹمی ایجنسی کے معائنہ کاروں نے کبھی مواد کی منتقلی یا غلط استعمال کی رپورٹ دی ہے؟ کیا ایٹمی ایجنسی نے 1981 میں عراق کی جوہری تنصیبات پر فوجی حملے کی مذمت نہیں کی تھی؟ تو عراق پر حملے کی مذمت کرنے والے ایران کی تنصیبات پر وسیع حملوں پر خاموش کیوں ہیں؟امریکا، اسرائیل اور عرب ملکوں کے فوجی سربراہان کی جرمنی میں خفیہ ملاقات، ایکسیوس کا دعویٰانھوں نے کہا جوہری تنصیبات کو محفوظ مقامات پر قائم کرنے کو چھپانے کی کوشش نہ سمجھا جائے، ایران کو مسلسل جنگ کے خطرات اور سنگین سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، حساس جوہری تنصیبات زیر زمین ہونے کے باوجود ہمیشہ عالمی ایجنسی کے معائنے کے تابع رہیں، انڈر گراؤنڈ جوہری مقامات پر عالمی ایٹمی ایجنسی کے معائنہ کار مستقل موجود رہے ہیں۔کمالوندی نے کہا کہ ایران کی جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کی تاریخ 80 سال پر محیط ہے، جب کہ ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم (AEOI) 52 سال پرانی ہے، ایران جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے ابتدائی ارکان میں بھی شامل تھا اور اس نے مسلسل اپنے جوہری پروگرام کی پُرامن نوعیت برقرار رکھی ہے، اور معاہدوں کی پاسداری کی ہے۔