جنوبی کوریا کا ایران جنگ میں اپنی فوج بھیجنے سے صاف انکار

Wait 5 sec.

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف امریکی جنگ میں اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی کوریا کے صدر لی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایسی کوئی فوجی تعیناتی نہیں کی جائے گی جس سے جنوبی کوریا براہِ راست جنگ کا حصہ بن جائے۔صدر لی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر کی جانب سے اتحادی ممالک سے ایران کے خلاف جنگ میں تعاون کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔صدر لی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جنوبی کوریا کی فوج کی ایسی کوئی تعیناتی نہیں ہوگی جس میں ملک جنگ میں شامل ہو یا جنگی کارروائی کا حصہ بنے۔ جنوبی کوریا اس مقصد کے لیے کسی بھی شکل میں فوجی وسائل تعینات نہیں کرے گا۔تاہم صدر لی نے یہ بھی کہا کہ جنوبی کوریا خطے میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اپنا کردار بڑھانے کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔ایران جنگ میں کتنے امریکی فوجی ہلاک ہوچکے؟ امریکی اخبار کا بڑا انکشافاُنہوں نے کہا کہ ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہ دیگر ممالک کی طرح اپنے تجارتی جہازوں، خام تیل کی ترسیل اور خطے میں موجود جنوبی کوریائی شہریوں کی حفاظت کے لیے کم سے کم ضروری اقدامات کرے۔