ایمسٹیٹن : آسٹریا میں 24 سال تک زیرِ زمین تہہ خانے میں قید بچوں نے بالآخر سورج کی روشنی دیکھ لی، بچوں کو پہلی بار کھلی روشنی اور آزاد ماحول میسر آگیا۔24سال تک دنیا کو صرف ٹیلی وژن اور اپنی والدہ کی محدود یادداشتوں کے ذریعے جاننے والے بچوں کو ایک خصوصی طبی مرکز میں رکھا گیا ہے، جہاں ڈاکٹر اور ماہرین ان کی جسمانی اور ذہنی بحالی کے لیے کام کررہے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق 18سالہ اسٹیفن اور 5 سالہ فیلکس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ایک تنگ اور کھڑکیوں سے محروم تہہ خانے میں گزارا ہے۔انہوں نے پہلی مرتبہ باقاعدہ سورج کی روشنی، کھلی فضا دیکھی اور اب وہ ایک نسبتاً معمول کے ماحول سے آشنا ہورہے ہیں، ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک زیرِ زمین رہنے کے باعث دونوں بچے اور ان کی والدہ انتہائی زرد اور کمزور دکھائی دیتے ہیں۔خاندان کی 19 سالہ بیٹی کرسٹن کی حالت اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے، طویل عرصے تک انتہائی نامساعد حالات میں رہنے کے باعث اسے شدید طبی مسائل کا سامنا ہے۔اس وقت وہ وہ اسپتال میں زیرِ علاج ہے، جہاں اسے بے ہوشی کی دوا دے کر مصنوعی تنفس پر رکھا گیا ہے جبکہ گردوں کے علاج کے لیے ڈائیلاسز بھی کیا جارہا ہے، ڈاکٹرز کے مطابق اس کی حالت نازک ہے لیکن کافی مستحکم ہے۔یاد رہے کہ کرسٹن کے اسپتال پہنچنے ہی سے اس خاندان کی برسوں سے چھپی حقیقت سامنے آنا شروع ہوئی تھی۔ اس کی بیماری سے حیران ڈاکٹروں نے اس کی والدہ سے رابطے کی اپیل کی تھی کیونکہ علاج کے لیے مریضہ کی طبی تاریخ جاننا ضروری تھی۔اسی پیش رفت کے بعد پولیس نے خاندان کے سربراہ یوزف فریٹزل اور اس کی بیٹی کو حراست میں لیا اور کئی دہائیوں سے چھپی حقیقت منظرعام پر آگئی۔روشنی اور آزاد ماحول سے مانوسماہرین کی نگرانی میں بچوں کو آہستہ آہستہ معمول کی زندگی کی طرف لانے کی کوشش کی جارہی ہے، ان کے لیے الگ الگ کمرے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ذاتی سامان اور کھلونے بھی ان کے ساتھ رکھے گئے ہیں۔اس خاندان کے لیے ایک اہم مرحلہ اس وقت آیا جب تہہ خانے میں رہنے والے بچوں کی ملاقات ان کے ان تین بہن بھائیوں سے ہوئی جو بچپن ہی سے گھر کے بالائی حصے میں رہتے آئے تھے۔لیزا، مونیکا اور الیگزینڈر کو ان کی والدہ کے دیگر بچوں کے طور پر خاندان کے ساتھ رکھا گیا تھا، جبکہ دادی روز میری بھی اسی طبی مرکز میں موجود ہیں۔24سال تک حقیقت چھپی رہیتحقیقات کے مطابق یوزف فریٹزل نے تقریباً 24 سال قبل اپنی بیٹی کو گھر کے زیرِ زمین حصے میں قید کردیا تھا۔ اس دوران اس نے اسے مسلسل ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کے نتیجے میں سات بچے پیدا ہوئے۔ ان میں سے ایک بچہ کم عمری میں ہی انتقال کرگیا تھا۔فریٹزل نے لوگوں کو اپنی بیٹی کے لاپتا ہونے کی جھوٹی کہانی بیان کیں، جبکہ گھر کے بالائی حصے میں رہنے والے تین بچوں کے بارے میں اہلِ خانہ اور پڑوسیوں کو یہ بتایا جاتا رہا کہ انہیں ان کی والدہ نے نومولود حالت میں چھوڑ دیا تھا اور بعد میں خاندان نے انہیں پال لیا۔رپورٹس کے مطابق گھر کے بعض کرایہ داروں نے تہہ خانے کی جانب سے آوازیں سننے کی شکایت بھی کی، تاہم انہیں مختلف وجوہات بتا کر خاموش کردیا جاتا تھا۔ بعدازاں پولیس تحقیقات میں تہہ خانے میں قائم خفیہ قید خانے اور برسوں سے جاری جرائم کا انکشاف ہوا۔ معمول کی زندگی کی جانب طویل سفرماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں اور ان کی والدہ کی جسمانی و ذہنی بحالی ایک طویل اور مشکل عمل ہوگا۔ برسوں تک دنیا سے کٹے رہنے کے باعث انہیں عام زندگی کے معمولات، آزادانہ نقل و حرکت اور خاندانی تعلقات کے ساتھ دوبارہ ہم آہنگ ہونے میں وقت درکار ہوگا۔اس خاندان کے لیے معمول کی زندگی کی طرف واپسی کا سفر اگرچہ طویل ہے، تاہم طبی ماہرین اور اہل خانہ کی مدد سے انہیں ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔