مشرق وسطیٰ میں نئے اتحاد کو اسرائیل ’’اسلامک نیٹو‘‘ قرار دینے لگا

Wait 5 sec.

(3 جولائی 2026): مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل پانے والے اتحاد کو اسرائیل اسلامک نیٹو قرار دے رہا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک نئے علاقائی سکیورٹی و سفارتی اتحاد کی تشکیل سامنے آئی ہے۔اس اتحاد میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور قطر سمیت کئی اہم ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد خطے میں استحکام، دفاعی تعاون، سفارتی ہم آہنگی اور بحرانوں کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا بتایا جا رہا ہے۔تاہم اسرائیلی رپورٹس اس اتحاد کو اسلامک نیٹو قرار دے رہے ہیں، جو خلیج تعاون کونسل کے دائرے سے باہر تشکیل پا رہا ہے۔امریکی جریدے فارن پالیسی کا کہنا ہے مشرقِ وسطیٰ میں ایران جنگ نے خلیجی ریاستوں کو شدید نقصان پہنچایا، ان کی برآمدات اور سلامتی کا احساس متاثرہوا۔یہی وجہ ہے کہ خلیج تعاون کونسل سے باہر نیا گروپ تشکیل پایا ہے، جس میں سعودی عرب، قطر اور غیر خلیجی ممالک مصر، پاکستان اور ترکیے بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی بلاک کی نئی صف بندی میں امارات واضح طور پر الگ تھلگ ہے، اور اس اتحاد میں یو اے ای کی غیر موجودگی نمایاں ہے۔