ہندوستانی معیشت کی ریڑھ تصور کیے جانے والے سروس سیکٹر کی رفتار جون 2026 میں سست پڑ گئی ہے۔ کمزور گھریلو طلب اور صارفین کی گھٹتی دلچسپی کے باعث جون میں ملک کے سروس سیکٹر کی شرح نمو 17 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ایچ ایس بی سی کے تازہ سروے کے مطابق بازار کے مشکل حالات نے نہ صرف نئی فروخت اور پیداوار کی رفتار کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کمپنیوں کا کاروباری اعتماد بھی 5 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے اور نئی تقرریوں پر عارضی طور پر روک لگ گئی ہے۔موسمی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ایچ ایس بی سی انڈیا سروسز پی ایم آئی بزنس ایکٹیویٹی انڈیکس (سروسز پی ایم آئی) جون میں کم ہو کر 57.4 پر آ گیا، جو مئی میں 59.8 تھا۔ اگرچہ یہ اب بھی 50.0 کی غیر جانبدار حد سے اوپر ہے، جو نمو کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن گزشتہ 17 ماہ کے دوران یہ سب سے کمزور اضافہ ہے۔ ایچ ایس بی سی کی چیف انڈیا اکنامسٹ پرانجل بھنڈاری کے مطابق اس سست روی کی بنیادی وجہ بازار کے مشکل حالات اور خاص طور پر گھریلو سطح پر کمزور طلب ہے۔ اس کے باعث نئے آرڈرز حاصل ہونے کی رفتار گزشتہ ڈھائی برسوں میں سب سے سست ریکارڈ کی گئی ہے۔گھریلو طلب میں سست روی کے درمیان ایک حوصلہ افزا خبر برآمدات کے محاذ سے آئی ہے۔ جون کے دوران خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بیرون ملک سے ملنے والے آرڈرز میں گزشتہ 3 ماہ کا تیز ترین اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سروے کے مطابق آسٹریلیا، بلجیم، کناڈا، جرمنی، ملیشیا، نیپال، عمان، قطر، سنگاپور، متحدہ عرب امارات اور امریکہ جیسے ممالک سے ہندوستانی خدمات کی طلب میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ بیرونی طلب میں اس مضبوط اضافہ نے مجموعی گراوٹ کو کافی حد تک سنبھالنے میں مدد دی ہے۔کمزور طلب کے باعث ایک مثبت پہلو یہ رہا کہ قیمتوں پر دباؤ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اِن پٹ لاگت اور آؤٹ پُٹ قیمت، دونوں کی افراط زر کی شرح میں نرمی دیکھی گئی ہے۔ نومبر 2025 کے بعد قیمتوں میں اضافہ کی یہ سب سے کمزور رفتار رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مغربی ایشیا میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی کے باعث کمپنیوں کی لاگت گھٹی ہے۔ دوسری جانب، نئے کام کی سست رفتاری کے سبب کمپنیوں نے نئی تقرریاں روک دی ہیں۔ کمپنیوں کا خیال ہے کہ موجودہ ملازمین موجودہ کام کے لیے کافی ہیں، جس کی وجہ سے روزگار پیدا ہونے کی رفتار بھی سست ہو گئی ہے۔صرف سروس سیکٹر ہی نہیں بلکہ مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں کو ملا کر تیار کیا جانے والا ایچ ایس بی سی انڈیا کمپوزٹ پی ایم آئی آؤٹ پُٹ انڈیکس بھی مئی کے 59.3 سے کم ہو کر جون میں 57.1 پر آ گیا ہے۔ یہ گراوٹ ہندوستان کے پرائیویٹ سیکٹر میں مجموعی سست روی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں نئے آرڈرز اور روزگار پیدا ہونے کی رفتار 2026 میں اب تک کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اگرچہ آئندہ 12 ماہ کے دوران کمپنیاں پیداوار میں اضافہ سے متعلق پُرامید ہیں، لیکن ان کے مثبت اعتماد کا اشاریہ بھی 5 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔