منی پور میں کشیدگی پھر عروج پر، 6 ناگا افراد کے قتل کے بعد شاہراہ پر ناکہ بندی، سیکورٹی انتظامات سخت

Wait 5 sec.

منی پور میں ایک بار پھر حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ ریاست میں 6 عام شہریوں کے قتل کے بعد ناگا گروپوں کی جانب سے طویل عرصہ سے جاری معاشی ناکہ بندی کے باعث حکام کو قومی شاہراہ-2 (این ایچ-2) پر سیکورٹی انتظامات سخت کرنے پڑے ہیں۔ یہ احتجاج ان 6 افراد کے قتل کے بعد شروع ہوا، جنہیں مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا۔ اس احتجاج کے پیش نظر امپھال مغرب کے حکام نے گزشتہ روز جمعرات کو این ایچ-2 پر واقع نامدوئیلونگ میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ڈیوٹی پر پولیس ٹیموں اور مرکزی مسلح پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں کو تعینات کرنے کا حکم جاری کیا۔ معاشی ناکہ بندی بنیادی طور پر اسی مقام پر کی جا رہی ہے۔مظاہرین ان 6 لیانگمائی ناگا افراد کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں، جن کی مسخ شدہ لاشیں تقریباً ایک ماہ تک یرغمال رکھے جانے کے بعد برآمد ہوئی تھیں۔ متاثرین کو مبینہ طور پر 13 مئی کو مسلح کوکی شدت پسندوں نے اغوا کیا تھا اور بعد میں انہیں قتل کر دیا گیا۔ پولیس اس دعوے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ مظاہرین مقتولین کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ کوکی برادری کے بعض افراد کی جانب سے ان قتل کے واقعات سے متعلق مبینہ اعترافی بیانات کی بھی مذمت کر رہے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق تقریباً 40 مقامی لیانگمائی ناگا رضاکار، میتیئی خواتین کے ساتھ مل کر نامدوئیلونگ کراسنگ پر گاڑیوں کی آمد و رفت پر نظر رکھے ہوئے تھے اور امپھال سے کانگپوکپی ضلع جانے والے سامان اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل روک رہے تھے۔ تاہم سیکورٹی فورسز اور ہنگامی خدمات سے متعلق گاڑیوں کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اس دوران محدود تعداد میں کچھ بین الریاستی اور بین الاضلاعی مسافر گاڑیاں بھی اس راستے سے گزر رہی ہیں۔ ناگا تنظیموں کا یہ احتجاج گزشتہ ماہ 5 جون کو شروع ہوا تھا اور جمعرات، 2 جولائی کو اس کا 28واں دن تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کرنے والے رضاکار اور ان کے حامی جمع ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ حکام شاہراہ کو خالی کرانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب کوکی-زو برادری کے افراد 30 جون سے کانگپوکپی ضلع میں جوابی احتجاج کر رہے ہیں اور اس انتہائی اہم بین الریاستی شاہراہ پر آمد و رفت بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ایک دیگر واقعہ میں گزشتہ روز جمعرات کی علی الصبح تقریباً ڈیڑھ بجے امپھال مشرق میں مظاہرین نے ٹیلی کام آلات لے جانے والی ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔ گاڑی کو اس وقت نذرِ آتش کیا گیا جب یہ جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ اس کے ذریعہ غیر قانونی سامان منتقل کیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق گاڑی کانگپوکپی ضلع کی جانب جا رہی تھی، لیکن امپھال مشرق میں سیکورٹی اہلکاروں نے اسے روک لیا اور وہاں کی موجودہ امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر اسے واپس امپھال جانے کی ہدایت دی۔ تاہم واپسی کے دوران امپھال مشرق میں مظاہرین کے ایک گروپ نے گاڑی کو روک لیا۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ گاڑی میں تمباکو سے بنی اشیا اور دیگر نشہ آور ممنوعہ مواد موجود تھا، جس کے بعد انہوں نے گاڑی کو آگ لگا دی۔ پولیس اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور صورت حال پر قابو پا لیا، تاہم اس وقت تک گاڑی کو نقصان پہنچ چکا تھا۔ اس واقعہ کے سلسلے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور آتش زنی میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ ادھر شاہراہ کوریڈور میں بھی کشیدگی برقرار ہے، اس لیے حکام متاثرہ علاقوں کی صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔