عالمی موسمیاتی تنظیم نے ال نینو سسٹم کے شدید ہونے کی پیشگوئی کر دی

Wait 5 sec.

اقوام متحدہ کی موسمیاتی ایجنسی نے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کرنے والے مضبوط ال نینو سسٹم کے زور پکڑنے کی پیش گوئی کر دی ہے۔ موسمیاتی ایجنسی نے خبردار کیا کہ اِل نینو کے اثرات 2027 تک مختلف خطوں میں محسوس کیے جائیں گے۔عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے پالیسی سازوں کو دنیا بھر میں صحت پر بڑھتے اثرات کے لیے تیار رہنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ال نینو کی وہ موسمی کیفیت، جو دنیا کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں، گرمی کی لہروں اور خشک سالی کا سبب بنتی ہے، رواں سال ’جولائی سے ستمبر‘ کے دوران مزید شدت اختیار کرے گی۔ڈبلیو ایم او کی جمعہ کو جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق برصغیر ہند میں معمول سے کم بارشوں کا امکان ہے، جب کہ افریقہ کے بعض علاقوں اور جنوبی یورپ میں معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔ڈبلیو ایم او کی سیکریٹری جنرل سیلیسٹ ساؤلو نے کہا ’’ال نینو کی صورت حال پہلے ہی پیدا ہو چکی ہے اور ہماری پیش گوئیوں کے مطابق یہ تیزی سے ایک مضبوط مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے کئی خطوں میں خشک سالی، شدید بارشوں، زمینی گرمی کی لہروں اور سمندری گرمی کی لہروں کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔‘‘خشک سالی اور سیلاب، دونوں ہی پہلے سے غذائی قلت کy شکار علاقوں میں خوراک کی پیداوار کے لیے سنگین خطرہ ہیں، جب کہ شدید بارشوں سے آنے والے سیلاب لوگوں کی نقل مکانی کا باعث بنتے ہیں اور ہیضے سمیت متعدی اور آبی امراض کے پھیلاؤ میں اضافہ کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (FAO) کے ڈائریکٹر جنرل چو ڈونگ یو نے بھی خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی خوراک کی پیداوار پر بڑھتا ہوا دباؤ ڈال رہی ہے۔یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ کے وسیع علاقے شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک اموات کی تعداد 3 ہزار 700 ہو چکی ہے، فرانس میں 2025، بیلجیم میں 1200 اور نیدرلینڈز میں 480 اموات رپورٹ ہوئیں۔فرانس میں ریکارڈ گرمی کے دوران اموات میں تقریباً 30 فی صد اضافہ دیکھا گیا، فرانس کے محکمہ صحت نے بتایا ہلاکتیں ایک ہفتے میں ہوئی ہیں۔ فرانس کی سپر مارکیٹس میں خریدار پنکھوں اور ایئر کنڈیشنز خریدنے کے لیے آپس میں الجھتے نظر آئے۔ نیدرلینڈز میں اضافی اموات میں زیادہ تر متاثرین کی عمر 80 سال سے زائد تھی، بیلجیم حکام کہتے ہیں کہ سخت گرمی کی لہر سے ہونے والی اموات کی تعداد ابتدائی اندازے سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ال نینواگرچہ ال نینو ایک قدرتی موسمی مظہر ہے، لیکن اس کی زیادہ شدید شکل بحرالکاہل میں سمندری پانی کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا نتیجہ ہے، جو ہوا کے بہاؤ کے عالمی نظام کو متاثر کرتا ہے۔عام حالات میں مشرق سے مغرب کی جانب چلنے والی طاقت ور مستقل ہوائیں سطحی گرم پانی کو ایشیا اور آسٹریلیا کی طرف دھکیلتی ہیں، جس سے جنوبی امریکا کے ساحل کے قریب ٹھنڈا اور غذائیت سے بھرپور پانی اوپر آ جاتا ہے۔تاہم ال نینو کے دوران سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہو جاتا ہے اور مستقل ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں، جس کے باعث گرم پانی مشرق کی جانب امریکا کے ساحلوں کی طرف بڑھ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے موسمی نظام میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ رواں سال نگرانی کے کئی اہم علاقوں میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول کے مقابلے میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔