بھارتی وزیراعظم مودی کا ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں جانے سے انکار، دوغلی پالیسی عیاں

Wait 5 sec.

نئی دہلی : بھارتی وزیراعظم مودی کے ایرانی سپریم لیڈرکی آخری رسومات میں جانے سےانکار کے بعد بھارت کے اندرونی اور عالمی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔تفصیلات کے مطابق ایرانی سپریم لیڈرکی آخری رسومات میں عدم شمولیت سے اسرائیل اور بی جے پی گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہوگیا، ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی عدم شرکت کے بعد بھارت کے اندرونی اور عالمی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔سیاسی تجزیہ کاروں اور دفاعی ماہرین کی جانب سے مودی حکومت کی اس پالیسی کو "کھوکھلی اور دوغلی سفارتکاری” قرار دیا جا رہا ہے۔بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا نے بتایا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجے جانے کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی نے تہران جانے سے انکار کر دیا اور بھارت نے اس عظیم الشان جنازے میں شرکت کے لیے ایک جونیئر سطح کا وفد بھیجا، جس کی قیادت وزیرِ مملکت برائے خارجہ پبیترا مارگریٹا اور ریاست بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید عطا حسنین کر رہے ہیں۔بھارتی تجزیہ کار پروین شانے کا کہنا ہے کہ مودی نے امریکا اور اسرائیل کو ناراض ہونے سے بچانے کے لیے ایران جانے سے گریز کیا۔بھارتی دفاعی تجزیہ کار جے ڈی بخشی نے بھی اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کی آخری رسومات میں ایرانی سپریم لیڈر نے شرکت کی تھی، اس لیے نریندر مودی کو بھی ایران جانا چاہیے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ دعوت کے باوجود آخری رسومات میں شرکت نہ کرنا بھارت کی سفارتی پالیسی پر سوالات اٹھاتا ہے، جبکہ صرف ایک جونیئر وزیر اور صوبائی گورنر کو بھیجنا بھی حکومت کی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔رپورٹس کے مطابق بھارتی وفد کے برعکس پاکستان نے اس موقع پر انتہائی اعلیٰ سطح کا وفد تہران بھیجا، پاکستان کی نمائندگی خود وزیراعظم شہباز شریف اور ملک کے اعلیٰ حکام کر رہے ہیں، جو پاکستان اور ایران کے دیرینہ، تاریخی اور گہرے برادرانہ تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ماہرین نے مودی کی دوغلی پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بھارت کو ایران سے سستا تیل، چابہار پورٹ کے ذریعے تجارت اور آبنائے ہرمز کے اہم آبی راستے پر ایرانی تعاون کی ضرورت ہے، لیکن دوسری طرف جب دکھ کی گھڑی میں ساتھ کھڑے ہونے کا وقت آیا تو مودی نے اپنے مفادات اور خوف کی وجہ سے پیٹھ دکھا دی۔