تہران : شہید رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت تین روزکے لیے عوام دیدار کے لیے رکھ دی گئی ، گرینڈ مصلیٰ میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو الوداع کہنے کے لیے عوام کا سمندر اُمڈ آیا۔تفصیلات کے مطابق ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے آخری رسومات اور الوداعی مراسم کا آغاز ہو گیا، جس میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے اعلیٰ شخصیات اور سوگواروں کا تہران میں جمِ غفیر جمع ہے۔شہید رہبرِ اعلیٰ کو الوداع کہنے کے لیے تہران کی سڑکوں پر عوام کا سمندر امڈ آیا اور فضا انتقام اور امریکا مخالف نعروں سے گونج اٹھی۔شہید سپریم لیڈر اور ان کے اہل خانہ کے اجسادِ خاکی آخری دیدار کے لیے تہران کے ‘مصلیٰ امام خمینی کمپلیکس’ (گرینڈ مصلیٰ) میں رکھ دیے گئے ہیں۔گرینڈ مصلیٰ کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے گئے ہیں، جہاں لاکھوں سوگوار شدید غم و اندوہ کی حالت میں اپنے قائد کا آخری دیدار کر رہے ہیں۔ عوام آج اور کل رات 8 بجے تک شہید رہبر کا آخری دیدار کر سکیں گے۔جمعے کے روز ہونے والی تعزیتی تقریب میں دنیا بھر کے قائدین اور وفود نے شرکت کی اور شہید خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کیا، تعزیتی اجتماعات میں تقریباً 100 سے زائد ممالک کے مہمان شریک ہو رہے ہیں۔جن میں پاکستان، ترکیہ، قطر، اور سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے قائدین شخصیات اور وفود شامل تھے جبکہ حزب اللہ کے شہید رہنماؤں کے ورثاء بھی خصوصی طور پر دعائیہ تقریب میں شریک ہوئے۔دوسری جانب شہید سپریم لیڈر کے آخری سفر اور تدفین کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت تہران میں مرکزی نمازِ جنازہ کا سب سے بڑا اجتماع کل صبح منعقد کیا جائے گا۔6 جولائی کو تہران میں مقامی وقت کے مطابق صبح 6:00 بجے جنازے کا باقاعدہ جلوس شروع ہوگا اور 7 جولائی کو جنازے کا جلوس تہران سے ایران کے مقدّس شہر قُم منتقل کیا جائے گا۔8 جولائی کو تدفین سے قبل جسدِ خاکی کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جہاں عراق میں جنازے کے جلوس نکلیں گے اور 9 جولائی کو آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ایران میں اس وقت شدید سوگ کا سماں ہے اور تمام سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین اور مہمانوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔