کیتن اگروال کیس: سیا گوئل کے نازیبا اشارے پر والد کی وضاحت

Wait 5 sec.

(4 جولائی 2026): کیتن اگروال قتل کیس کی مرکزی ملزمہ سیا گوئل کے میڈیا نمائندوں کے سامنے مبینہ نازیبا اشارہ کرنے پر والد نے وضاحت جاری کر دی۔انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں سیا گوئل کو جاری تفتیش کے سلسلے میں پونے میں واقع ان کی رہائش گاہ سے پولیس کی نگرانی میں لے جاتے ہوئے دکھایا گیا۔ انہوں نے سیاہ رنگ کی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی اور ایک پرنٹڈ اسکارف سے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا۔ رہائش گاہ کے باہر جمع ہونے والے میڈیا نمائندوں کی طرف تھوڑی دیر دیکھنے کے بعد ملزمہ نے اپنی انگلی اٹھائی اور مبینہ طور پر نازیبا اشارہ کیا۔تاہم، اب عوامی ردعمل شدید ہونے پر سیا گوئل کے والد پروین گوئل نے ویڈیو جاری کی ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ ان کی بیٹی میڈیا پر کوئی توہین آمیز اشارہ نہیں کر رہی تھی بلکہ وہ اپنا زخمی ہاتھ دکھا رہی تھی۔یہ بھی پڑھیں: سیاگوئل اور چیتن چوہدری کی الزام تراشی پر پولیس کا اہم فیصلہانٹرنیٹ پر گردش کرنے والے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے پروین گوئل نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کسی نتیجے پر پہنچنے میں جلدی نہ کریں۔ اپنے دعوے کی توثیق کیلیے انہوں نے اپنے موبائل فون پر سیا گوئل کے زخمی ہاتھ کی ایک تصویر بھی دکھائی۔کیتن اگروال کیس کا پس منظرپولیس کے مطابق، سیا گوئل اور ان کے مبینہ عاشق چیتن چوہدری نے 18 جون 2026 کو پونے کے قریب لوہاگڑھ قلعے پر تاجر کیتن اگروال کو ایک کھائی میں دھکا دے کر قتل کرنے کی سازش کی تھی۔تفتیش کاروں نے بتایا کہ سیا گوئل نے شروع میں دعویٰ کیا تھا کہ کیتن اگروال کا پیر حادثاتی طور پر پھسلا اور وہ گر گئے، جس کے بعد حادثاتی موت کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم، پوچھ گچھ کے دوران پولیس کو ملزمہ کے بیانات اور رویے میں تضاد ملا، جس کے بعد تفتیش نے ایک الگ رخ اختیار کر لیا۔بعد میں ہونے والی تحقیقات میں ایسے شواہد سامنے آئے جس کے نتیجے میں سیا گوئل اور چیتن چوہدری دونوں کو قتل اور مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔