وجے تھلاپتی کی حکومت گرانے کی سازش کا انکشاف

Wait 5 sec.

بھارتی اداکار و سیاست دان وجے تھلاپتی کی حکومت قائم ہونے محض دو ماہ بعد اسے گرانے کی سازش کا انکشاف ہوا ہے۔تمل ناڈو کی خفیہ ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ وجے تھلاپتی کی حکومت گرانے کی ایک مبینہ سیاسی سازش کو ناکام بنادیا ہے جس کا مقصد متعدد اراکین اسمبلی سے اجتماعی استعفیٰ دلا کر حکومت کو اقلیت میں لانا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹی وی کے ایک رکن اسمبلی نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے کہ آئی پی ڈی ایس نامی ایک کنسلٹنسی فرم کے نمائندوں نے ان سے ملاقات کر کے 35 کروڑ روپے کی پیشکش کی، الزام ہے کہ فرم کے نمائندہ نے ان سے رابطہ کیا اور اسمبلی اسپیکر جے سی ڈی پربھاکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کے بدلے خطیر رقم کی پیشکش کی۔رکن اسمبلی نے مزید الزام لگایا کہ پیشکش مسترد کرنے کے بعد انہیں دھمکیاں بھی دی گئیں کہ اس معاملے کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں، شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس اور انٹیلی جنس حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ فرم سے وابستہ 3 افراد کو گرفتار کیا ہے۔یہ پڑھیں: وجے تھلاپتی : سپر اسٹار سے وزیراعلیٰ تک، سیاسی سفر کی دلچسپ داستانمیڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیش کے دوران گرفتار افراد میں سے ایک کے روابط ڈی ایم کے لیڈر سینتھل بالاجی اور ان کے بھائی اشوک سے ہونے کی بات کہی جارہی ہے  پولیس سازش کے وسیع نیٹ ورک کی جانچ کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق سازش کے تحت 15 اراکین اسمبلی سے ایک ساتھ استعفیٰ دلوا کر حکومت کو گرانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ادھر تمل ناڈو کے وزیر سی ٹی نرمل کمار نے اس معاملے میں براہ راست ڈی ایم کے کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ’’سینتھل بالاجی سے وابستہ افراد اورکرور گینگ اس سازش میں شامل ہیں اور پولیس کو تمام ذمہ داروں کو گرفتار کرنا چاہیے۔‘‘انہوں  نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ڈی ایم کے، اے آئی اے ڈی ایم کے کے لیڈر کے پلانی سوامی کے ساتھ مل کر حکومت گرانے کی کوشش کر رہی ہے۔دوسری جانب ڈی ایم کے نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے جبکہ پارٹی کے ترجمان اے سرونن نے کہا کہ ٹی وی کے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے محض سیاسی پروپیگنڈا کر رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کے پاس سینتھل بالاجی کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو انہیں گرفتار کر کے دکھایا جائے۔