کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے آج گوا کے خستہ حال نظام قانون اور بے روزگاری پر بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ خاص طور سے ریاست کے وزیر اعلیٰ کو بدعنوانی میں ملوث ٹھہراتے ہوئے کہا کہ عوام میں اس حکومت کے خلاف شدید ناراضگی ہے۔ یہ بیان انھوں نے گوا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔You have every right to ask me questions, and I am here to answer them humbly. But will you ask the questions to Narendra Modi ji?If democracy is weakened in this country, the media will have no meaningful role to play. That is the situation in the country today.The BJP and… pic.twitter.com/VHGLPhtUp4— Congress (@INCIndia) July 4, 2026اس موقع پر وینوگوپال نے ایودھیا کے شری رام مندر میں مبینہ نذرانہ چوری معاملہ پر بھی اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا۔ انھوں نے اس چوری کے لیے بی جے پی-آر ایس ایس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے پی ایم مودی کو خط لکھا ہے، جس میں مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے۔ نذرانہ چوری معاملہ پر تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’غزنوی نے 27 سال میں 17 بار سومناتھ مندر کو لوٹا تھا، لیکن بی جے پی-آر ایس ایس سے جڑے ٹرسٹیوں نے محض 42 دنوں میں شری رام مندر کو 70 بار لوٹا ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈران بھگوان میں عقیدہ رکھتے ہیں، لیکن لوگوں کو تقسیم کرنے اور مندر لوٹنے کے لیے۔ اس مہاگھوٹالہ کو انجام دینے والوں کو مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ یوپی حکومت کا تحفظ بھی حاصل ہے۔We, the Congress people, believe in God for the sake of faith, but BJP leaders believe in God for the sake of polarizing people and looting the temple.The BJP and the RSS are completely responsible for the temple theft in Ayodhya. Why are the BJP and Prime Minister Narendra… pic.twitter.com/A7orQgTTHp— Congress (@INCIndia) July 4, 2026کے سی وینوگوپال نے اس پریس کانفرنس سے قبل ریاست کے سینئر لیڈران اور انچارج کے ساتھ الگ الگ میٹنگیں کی تھیں۔ اس کے بعد سیاسی معاملوں کی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی، جس میں موجودہ سیاسی حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور آئندہ اسمبلی انتخاب کے لیے تنظیمی سطح پر تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ وینوگوپال نے اس بارے میں بتایا کہ گزشتہ 2 دنوں سے انھوں نے گوا کانگریس کے لیڈران اور عہدیداروں کے ساتھ تنظیمی بدلاؤ، عہدیداروں کی تقرریوں اور آئندہ انتخاب کی حکمت عملی سے متعلق تجزیاتی میٹنگیں کیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ گوا کی عوام موجودہ بی جے پی حکومت کی پالیسیوں سے پریشان ہو چکی ہے۔ ترقی کے نام پر مقامی لوگوں کی قیمتیں زمینیں چھینی جا رہی ہیں، اصولوں میں خصوصی التزامات کر مقامی بلدیوں کو پوری طرح سے درکنار کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر پرمود ساونت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ We had a series of meetings with the leaders and office bearers of the Goa Congress yesterday and today. We discussed organizational revamping, BLA-II appointments, board committee formation, block committee formations, and DCC office-bearer appointments. We also discussed the… pic.twitter.com/Wsvnm2OSo4— Congress (@INCIndia) July 4, 2026گوا میں بڑھتے جرائم پر مبنی اعداد و شمار کو سامنے رکھتے ہوئے وینوگوپال نے کہا کہ گزشتہ 4 سالوں میں گوا میں جرائم کا گراف تیزی سے بڑھا ہے۔ اس دوران ریاست میں 127 قتل، 383 عصمت دری، 2113 چوری و ڈکیتی کے معاملے، 354 اغوا اور 1127 حملے کی وارداتیں درج کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے روزگار سے متعلق سبھی وعدے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں، اور آج گوا میں بے روزگاری شرح سب سے اونچی سطح پر ہے۔ انھوں نے بھروسہ دلایا کہ آئندہ انتخاب میں ریاست کی عوام اس حکومت کو اکھاڑ پھینکے گی۔The future of our students is in danger. There have been numerous examination paper leaks, and yet Dharmendra Pradhan continues as the Education Minister.A student in Nagpur was allocated an examination centre in Abu Dhabi. This is the state of governance in our country today.… pic.twitter.com/Iw4vEPw83J— Congress (@INCIndia) July 4, 2026گوا میں ’دَل بدل کی سیاست‘ پر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ انگریزوں کی پالیسی ’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘ کی تھی، لیکن بی جے پی نے اب ’چوری کرو اور راج کرو‘ کے ساتھ ساتھ ’توڑو اور راج کرو‘ کا نیا فارمولہ نکالا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور سی بی آئی جیسی ایجنسیوں کے دَم پر دیگر پارٹیوں کے لیڈران کو بلیک میل کر دَ بدل کو فروغ دے رہی ہے، جو ہندوستانی جمہوریت کے لیے بے حد خطرناک ہے۔‘‘ ملک میں لگاتار ہو رہے پیپر لیک کے معاملوں پر حملہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ طلبا کا مستقبل پوری طرح خطرے میں ہے، لیکن دھرمیندر پردھان اب بھی وزیر تعلیم بنے ہوئے ہیں۔