نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی کے مسئلے پر ایک بار پھر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ موسمی عوامل کے اثرات الگ کرکے کیے گئے تجزیے کے مطابق شہر میں حقیقی فضائی آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال آلودگی پر قابو پانے میں حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کی نشاندہی کرتی ہے اور فوری اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے۔اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو اور تحریری بیان میں کہا کہ ان کا تجزیہ 2 جولائی صبح 10 بجے سے 3 جولائی صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نتائج کا موازنہ گزشتہ سال 26 جون سے 10 جولائی کے اوسط اعداد و شمار سے کیا گیا تاکہ ایک دن کے موسمی اتار چڑھاؤ کا اثر نتائج پر نہ پڑے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے فضائی معیار کے اشاریے کے مطابق دہلی کا اوسط فضائی معیار اشاریہ 109 ریکارڈ کیا گیا، تاہم موسمی اثرات کو الگ کرکے دیکھا جائے تو فضائی آلودگی کی حقیقی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ نظر آتی ہے۔The Modi Govt’s calibrated capitulation to China continues even as India’s trade deficit with that country reaches record levels destroying large sections of our industry specially MSMEs.China’s provocative actions in relation to Arunachal Pradesh are unabated. The world’s… pic.twitter.com/svNFVHamcT— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) July 3, 2026اجے ماکن کے مطابق بین الاقوامی تحقیق میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کے اعداد و شمار کی پیمائش سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے باعث ان کے درج شدہ اعداد و شمار میں 80 فیصد سے زیادہ فرق آ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کا تجزیہ بنیادی طور پر پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کے اعداد و شمار پر مرکوز ہے، جنہیں نسبتاً زیادہ قابل اعتماد قرار دیا جاتا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ موسمی اثرات الگ کرنے پر پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی، جبکہ پی ایم 2.5 کی سطح بھی آٹھ فیصد زیادہ رہی۔ ان کے مطابق یہ اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ فضائی آلودگی میں بہتری کا تاثر صرف موسمی حالات کی وجہ سے پیدا نہیں ہوا بلکہ حقیقی آلودگی اب بھی تشویش ناک سطح پر موجود ہے۔اجے ماکن نے کہا کہ اس درجے کی آلودہ ہوا دمے اور دل کے مریضوں، چھوٹے بچوں اور بزرگوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعمیراتی سرگرمیوں اور سڑکوں کی دھول جیسے پی ایم 10 کے بڑے ذرائع کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے تاکہ فضائی آلودگی پر مؤثر طریقے سے قابو پایا جا سکے۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ شہر کے پوسا علاقے، جہاں فضائی معیار سب سے زیادہ خراب ریکارڈ کیا گیا، وہاں مقامی سطح پر فوری اقدامات کیے جائیں اور شہریوں کے لیے صحت سے متعلق انتباہ جاری کیا جائے۔ اس کے ساتھ انہوں نے عالمی ادارۂ صحت کے معیارات کے مطابق فضائی معیار کے اہداف مزید سخت بنانے کی بھی اپیل کی۔اجے ماکن نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں‘ اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہلی کے شہریوں کو صاف اور محفوظ ہوا فراہم کرنے کے لیے مؤثر اور جوابدہ نظام قائم کیا جائے۔