ایران جاپان کو تیل کی فروخت کیلیے کوشاں، بات چیت شروع

Wait 5 sec.

ایران جاپان کو تیل کی فروخت کا خواہاں ہے جب کہ خریدار طویل پابندیوں سے چھوٹ چاہتے ہیں۔تین ایرانی اور مغربی ذرائع نے نیوز ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ایران نے جاپانی کمپنیوں کو تیل فروخت کرنے کے لیے بات چیت شروع کر دی ہے۔حالانکہ ممکنہ خریدار خلیج میں امریکی پابندیوں کی طویل چھوٹ اور خلیج میں محفوظ ترسیل کے حالات پر یقین دہانی کے خواہاں ہیں۔امریکہ نے جون میں ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دی ہے۔کئی دہائیوں پرانی پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے جوہری معائنے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی سے متعلق وعدوں کے بدلے تہران کے ساتھ حتمی امن معاہدے پر زور دیا۔چین حالیہ برسوں میں ایرانی تیل کا اہم خریدار رہا ہے جب 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد سخت پابندیاں عائد ہونے پر جنوبی کوریا، جاپان، بھارت اور یورپ کے صارفین نے خریداری روک دی تھی۔امریکا کی جانب سے موجودہ پابندیوں کی چھوٹ 21 اگست تک خام تیل اور ایرانی نژاد پیٹرو کیمیکل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت پر ہے۔جاپان کی وزارت خارجہ اور امریکی وزارت خزانہ نے فوری طور پر ذرائع سے موصولہ خبروں پر جواب نہیں دیا۔