مہاراشٹر میں اسکولوں کے قریب ہائی انرجی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی، ایف ڈی اے کی ریاست گیر کارروائی شروع

Wait 5 sec.

ممبئی: مہاراشٹر حکومت نے ریاست بھر میں اسکولوں کے 500 میٹر کے دائرے میں ہائی انرجی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد بچوں اور نوجوانوں میں زیادہ کیفین والے مشروبات کے استعمال پر قابو پانا اور ان کی صحت کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ریاستی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے سخت نگرانی اور کارروائی کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔یہ اعلان ریاستی اسمبلی میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے وزیر نرہری جرِوال نے بی جے پی کے رکن اسمبلی وکرم پچپوتے کے سوال کے جواب میں کیا۔ وکرم پچپوتے نے ایوان میں کہا کہ ہائی انرجی ڈرنکس، خصوصاً نوجوانوں اور اسکولی بچوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، حالانکہ ان کی بوتلوں پر واضح طور پر درج ہوتا ہے کہ یہ مشروبات بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے موزوں نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود یہ مصنوعات اسکولوں کے باہر آسانی سے دستیاب ہیں، جس سے بچوں میں ان کی عادت بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق کم عمری میں ایسے مشروبات کا مسلسل استعمال صحت پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے، اس لیے ان کی فروخت پر فوری پابندی ضروری تھی۔ وزیر نرہری جرِوال نے اعتراف کیا کہ تعلیمی اداروں کے اطراف ان مشروبات کی فروخت بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اسکولوں کے 500 میٹر کے دائرے میں نافذ پابندی پر سختی سے عمل کرایا جائے گا اور نشہ آور اشیا کے ساتھ ساتھ ہائی انرجی ڈرنکس کی فروخت کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔اس دوران بی جے پی کے ایک اور رکن اسمبلی راہل کل نے اسکولوں کے اطراف نشہ آور اشیا کی فروخت اور خوراک میں ملاوٹ کے معاملات کی بھی جامع جانچ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر ذائقہ دار پان کے نام پر نشہ آور اشیا فروخت کی جاتی ہیں، جبکہ زیادہ شکر اور مصنوعی کیمیائی اجزا والے ذائقہ دار دودھ کی مصنوعات بھی بچوں کی صحت کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔وزیر نے بتایا کہ ایف ڈی اے پہلے ہی ایسے معاملات کی اندرونی سطح پر جانچ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ انتظامی ہدایات کے تحت افسران کو اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے اطراف دکانوں کا معائنہ کرنے، لیبارٹری جانچ کے لیے خوراک کے نمونے جمع کرنے اور گمراہ کن یا قابل اعتراض تشہیر کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔حکومت نے اپنے تحریری جواب میں واضح کیا کہ اگرچہ ’ہائی انرجی ڈرنکس‘ کی الگ قانونی تعریف موجود نہیں، تاہم ان مصنوعات کو غیر الکحل کیفین والے مشروبات کے زمرے میں رکھ کر فوڈ سیفٹی کے ضوابط کے تحت منظم کیا جاتا ہے۔یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایف ڈی اے کے نئے کمشنر تکارام منڈے نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ریاست بھر میں گٹکھا، پان مصالحہ اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ہوٹلوں، ریستورانوں، بیکریوں اور دیگر کھانے پینے کے مراکز کے خلاف سخت مہم شروع کر رکھی ہے۔ حالیہ کارروائی میں ممبئی کے متعدد اداروں کے فوڈ سیفٹی لائسنس بھی معطل کیے جا چکے ہیں۔